
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے نیا ضابطہ منظور کرتے ہوئے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے، جبکہ 15 اور 16 سال عمر کے نوجوانوں کو محدود اور نگرانی کے تحت رسائی دی جائے گی۔
20 سے 25 الفاظ پر مشتمل مختصر تعارف:
نئے قانون کے تحت کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ پلیٹ فارمز کو عمر کی تصدیق لازمی بنانا ہوگی۔
18 جون کو منظور کیے گئے فیصلے کے مطابق 15 سال سے کم عمر بچے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نہیں بنا سکیں گے اور نہ ہی پلیٹ فارمز کی مکمل سہولیات استعمال کر سکیں گے۔
حکومتی وضاحت کے مطابق ایسے بچے مواد شائع کرنے، تبصرے کرنے، پوسٹس شیئر کرنے یا عوامی گروپس میں شامل ہونے کے اہل نہیں ہوں گے۔ والدین کی اجازت بھی اس پابندی سے استثنا کے طور پر قبول نہیں کی جائے گی۔
15 اور 16 سال عمر کے نوجوانوں کو سوشل میڈیا تک محدود رسائی دی جائے گی۔ ان کے اکاؤنٹس پر خصوصی حفاظتی اقدامات نافذ ہوں گے جن میں عمر کے مطابق مواد کی درجہ بندی، حساس یا خطرناک خصوصیات کی بندش، استعمال کے دورانیے پر کنٹرول اور والدین کے لیے نگرانی کے خصوصی اختیارات شامل ہوں گے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ان نئے قواعد پر مکمل عمل درآمد کے لیے 12 ماہ تک کا وقت دیا گیا ہے، جس کے دوران وہ متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر ضروری تبدیلیاں نافذ کریں گے۔
نئے ضابطے کے تحت صرف صارف کی جانب سے اپنی عمر درج کرنا کافی نہیں ہوگا۔ پلیٹ فارمز کو عمر کی تصدیق کے لیے مؤثر نظام متعارف کرانا ہوگا۔
اس مقصد کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی، بائیومیٹرک تصدیقی نظام اور چائلڈ ڈیجیٹل سیفٹی کونسل سے منظور شدہ دیگر ذرائع استعمال کیے جا سکیں گے تاکہ صارفین کی عمر کا درست تعین ممکن بنایا جا سکے۔
حکام کے مطابق بچوں کی رازداری اور ذاتی معلومات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عمر کی تصدیق کے نظام کا باقاعدہ جائزہ بھی لیا جائے گا۔
متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ یہ فریم ورک بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق عالمی اقدامات کے مطابق تیار کیا گیا ہے اور اس کا مقصد ڈیجیٹل رسائی اور حفاظت کے درمیان متوازن ماحول قائم کرنا ہے۔
2024 کے ایک سروے کے مطابق متحدہ عرب امارات میں بچے اوسطاً روزانہ تین گھنٹے سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کا ضرورت سے زیادہ استعمال بے چینی، توجہ کی کمی، تعلیمی مسائل اور بعض صورتوں میں بولنے کی صلاحیت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق لائکس، شیئرز اور تبصرے دماغ کے ان حصوں کو متحرک کرتے ہیں جو انعام اور خوشی کے احساس سے منسلک ہوتے ہیں، جس کے باعث صارفین بار بار ان پلیٹ فارمز کی طرف راغب ہوتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر ضابطے نافذ کر رہے ہیں، جن میں برطانیہ، آسٹریلیا اور ملائیشیا شامل ہیں۔
یہ اقدام بچوں کو آن لائن خطرات، نامناسب مواد اور سوشل میڈیا کی لت سے محفوظ رکھنے کی وسیع حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔







