
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں نئے گریجویٹس کے لیے ملازمت حاصل کرنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ کمپنیاں اب صرف تعلیمی ڈگری کے بجائے عملی تجربے، مہارتوں اور فوری کارکردگی کو ترجیح دے رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ابتدائی سطح کی ملازمتوں میں کمی اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال نے روزگار کے روایتی مواقع محدود کر دیے ہیں۔
روزگار سے متعلق پلیٹ فارم اِن ڈیڈ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق متعدد ممالک کی طرح امارات میں بھی آجروں کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔ اب انٹری لیول ملازمتوں کے لیے بھی امیدواروں سے انٹرن شپ، پراجیکٹس، فری لانس کام اور پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹس کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ہاٹ پیک کی سینئر منیجر برائے پیپل اینڈ کلچر نجیبہ سلیمان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن نے وہ کام سنبھال لیے ہیں جو پہلے جونیئر ملازمین انجام دیتے تھے۔ ان کے مطابق ڈیٹا پروسیسنگ، بنیادی رپورٹنگ اور معمول کی رابطہ کاری جیسے کام اب ٹیکنالوجی زیادہ تیزی اور کم لاگت میں کر رہی ہے۔
مارک ایلس کنسلٹنگ اینڈ ٹریننگ کے ڈائریکٹر اوس اسماعیل کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے تحقیق، ابتدائی مسودوں کی تیاری اور انتظامی نوعیت کے بہت سے کام ختم کر دیے ہیں، جس کے باعث کمپنیوں کو ابتدائی سطح پر کم افراد کی ضرورت رہ گئی ہے۔
بھرتی کے ماہرین کے مطابق اب وہ امیدوار زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں جو مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کرنا جانتے ہوں، ڈیجیٹل مہارتیں رکھتے ہوں، مؤثر ابلاغ کی صلاحیت رکھتے ہوں اور اپنے تجربے کا عملی ثبوت پیش کر سکیں۔ امارات میں نیٹ ورکنگ اور پیشہ ورانہ روابط بھی پہلی ملازمت حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انوویشنز گروپ کی ریکروٹمنٹ منیجر نشا نائر نے کہا کہ کمپنیوں نے "سیکھنے والی ملازمتوں” کی جگہ "فوری نتائج دینے والی ملازمتوں” پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ ان کے مطابق عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، مہنگائی، سپلائی چین کے مسائل اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث ادارے نئی بھرتیوں میں زیادہ احتیاط برت رہے ہیں۔







