
خلیج اردو
گرمیوں کی تعطیلات سے قبل فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود متحدہ عرب امارات کے اسکولوں کا کہنا ہے کہ طلبہ کی قبل از وقت رخصتی میں کوئی نمایاں اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
تعلیمی اداروں کے مطابق اگرچہ تعطیلات کے آغاز سے پہلے کچھ والدین سفر کے اخراجات کم کرنے کے لیے بچوں کو جلد لے جانے کی درخواست کرتے ہیں، تاہم زیادہ تر خاندان تعلیمی ذمہ داریوں کو ترجیح دیتے ہیں۔
جیمز فاؤنڈرز اسکول المزہر کے پرنسپل اکرم طارق نے کہا کہ "تعلیمی سال کا آخری دن بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے جتنا آغاز کا دن۔” ان کے مطابق آخری ہفتوں میں تدریسی سرگرمیاں، جائزے، اگلے تعلیمی سال کی تیاری اور طلبہ کی رہنمائی کا عمل جاری رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ وقت سیکھنے، جائزہ لینے، کامیابیوں کا جشن منانے اور آئندہ تعلیمی مراحل کی تیاری کے لیے نہایت اہم ہوتا ہے، اس لیے طلبہ کی حاضری ضروری ہے۔
دی آکسفورڈ اسکول کے پرنسپل داسپو یاپوس نے بتایا کہ اس سال طلبہ کی قبل از وقت رخصتی میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کوئی غیرمعمولی اضافہ نہیں دیکھا گیا۔
ان کے مطابق والدین کو تعلیمی سال کے آغاز میں منظور شدہ تعلیمی کیلنڈر فراہم کر دیا جاتا ہے، جس سے وہ اپنے سفری منصوبے پہلے ہی ترتیب دے لیتے ہیں۔
کریڈنس ہائی اسکول کی چیف ایگزیکٹو اور پرنسپل دیپیکا تھاپر سنگھ نے بھی اسی رجحان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ والدین کی پیشگی منصوبہ بندی نے سفری مشکلات اور اضافی اخراجات کے باوجود تعلیمی حاضری کو متاثر نہیں ہونے دیا۔
انہوں نے کہا کہ قبل از وقت رخصتی کی درخواستیں عموماً ہنگامی خاندانی معاملات یا ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر آتی ہیں، جن کی تعداد محدود ہوتی ہے۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ سال کے اختتامی دنوں میں امتحانات، کارکردگی کے جائزے، اگلی جماعت میں منتقلی کے پروگرام اور دیگر اہم سرگرمیاں جاری رہتی ہیں، اس لیے والدین اب بھی باقاعدہ حاضری کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔







