متحدہ عرب امارات

قطر انرجی نے رأس لفان حادثے پر افسوس کا اظہار کیا، 13 بھارتی اور پاکستانی کارکن جاں بحق، 66 زخمی

خلیج اردو
قطر کے رأس لفان صنعتی شہر میں واقع ایک تنصیب پر پیش آنے والے صنعتی حادثے کے بعد قطر انرجی نے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ حادثے میں 13 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 66 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

قطر انرجی کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد کا تعلق بھارت اور پاکستان سے تھا، جبکہ زخمیوں میں قطر، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، کینیا، گھانا، تنزانیہ، نائیجیریا اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔

کمپنی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ "یہ ایک آپریشنل حادثہ تھا اور اس کا تعلق کسی تخریب کاری یا جارحیت سے نہیں ہے۔”

بیان کے مطابق متعلقہ تنصیب دسمبر 2025 سے مرمت اور دیکھ بھال کے لیے بند تھی اور حادثے سے صرف دو روز قبل دوبارہ فعال کی گئی تھی۔

قطر انرجی نے بتایا کہ ہنگامی امدادی ٹیموں اور قطر سول ڈیفنس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پایا اور اسے مکمل طور پر بجھا دیا۔ بارزان گیس پلانٹ اور قریبی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

کمپنی نے مزید کہا کہ مائع قدرتی گیس کی تنصیبات، رأس لفان بندرگاہ، لاجسٹک آپریشنز اور قطر کی گیس برآمدی صلاحیت اس حادثے سے متاثر نہیں ہوئی۔

حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوحہ میں بھارتی سفارت خانے نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ قطری حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور متاثرہ بھارتی شہریوں اور ان کے اہلِ خانہ کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

پاکستانی سفارت خانے نے بھی جاں بحق افراد کے خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔ سفارت خانے کے مطابق وہ قطری حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور پاکستانی شہریوں کی معاونت کے لیے دستیاب ہے۔

متحدہ عرب امارات نے بھی قطر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے لیے نیک تمناؤں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش ظاہر کی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button