متحدہ عرب امارات

اتحاد ریل نے مسافروں کے لیے مکمل سفری سہولیات کا اعلان، 10 درہم شٹل بس، کرایے کی گاڑیاں اور سیاحتی پیکجز بھی جلد متعارف کرائے جائیں گے

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی اتحاد ریل نے مسافروں کے لیے ریلوے اسٹیشن سے آخری منزل تک سفر کو آسان بنانے کے لیے متعدد نئی سہولیات متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جن میں 10 درہم کی شٹل بس سروس، کرایے پر گاڑیوں کی سہولت، ٹیکسی، آن لائن ٹیکسی سروسز اور مستقبل میں ٹرین کے ساتھ ہوٹل پیکجز شامل ہیں۔

اتحاد ریل کے مطابق محمد بن زاید سٹی اسٹیشن سے صرف 10 درہم کے کرائے پر شٹل بس سروس دستیاب ہوگی، جو مسافروں کو ادنوک ہیڈکوارٹر، کارنیش روڈ ویسٹ، ایڈنیک سینٹر اور ریم مال سمیت دارالحکومت کے اہم مقامات تک پہنچائے گی۔ اس سروس کی بکنگ اتحاد ریل کی ویب سائٹ اور موبائل ایپ کے ذریعے کی جا سکے گی۔

دوسری جانب فجیرہ اسٹیشن پر پہلے ہی دن سے کرایے پر گاڑیاں حاصل کرنے کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ٹیکسی اسٹینڈ، آن لائن ٹیکسی سروسز کے لیے پک اینڈ ڈراپ پوائنٹس اور بس سروس بھی دستیاب ہوگی۔ کمپنی نے عندیہ دیا ہے کہ مستقبل میں مزید کار رینٹل کمپنیوں کو بھی پورے ریلوے نیٹ ورک میں شامل کیا جائے گا۔

اتحاد ریل موبیلیٹی کی کمرشل ایگزیکٹو ڈائریکٹر ادھراء المنصوری نے پہلی مسافر میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ کمپنی مقامی پبلک ٹرانسپورٹ اداروں کے ساتھ مل کر بسوں اور ٹیکسیوں کے اوقات کار کو ٹرینوں کی آمد و روانگی کے مطابق ترتیب دے رہی ہے تاکہ جن مسافروں کے پاس اپنی گاڑی نہ ہو، انہیں سفر میں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے بتایا کہ سیاحت کے فروغ کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں اور مختلف سیاحتی اداروں کے ساتھ ٹرین اور ہوٹل پیکجز متعارف کرانے پر بات چیت ہو رہی ہے۔ ان کے بقول، "یہ کوئی اختیار نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔”

جب تک یہ پیکجز متعارف نہیں ہوتے، اسٹیشن پر موجود عملے کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ وہ واپسی کی ٹرین سے پہلے فارغ وقت رکھنے والے مسافروں کو قریبی ریستورانوں، سیاحتی مقامات اور دیگر سرگرمیوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کریں۔

اتحاد ریل نے اس منصوبے کے تحت نئے ملازمت کے مواقع بھی پیدا کیے ہیں، جن میں اسٹیشن ہوسٹ اور اسٹیشن ماسٹر جیسے عہدے شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق متعدد کاروباری اداروں نے بھی نئے ریلوے اسٹیشنوں کے قریب ریستوران، دکانیں اور دیگر تجارتی مراکز قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جس سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button