
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں علاقائی کشیدگی کے بعد جائیداد کی مارکیٹ بتدریج بحالی کی جانب بڑھ رہی ہے، جبکہ گھروں کے خریداروں اور فروخت کنندگان کے درمیان قیمتوں کا فرق بھی مسلسل کم ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ تر افراد فی الحال گھر خریدنے کے بجائے کرائے پر رہائش اختیار کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
جائیداد سے متعلق ادارے پراپرٹی فائنڈر کی تازہ رپورٹ کے مطابق مئی میں 63 فیصد خریداروں نے گھروں کی قیمتوں میں کمی کی توقع ظاہر کی، جبکہ تنازع شروع ہونے کے فوراً بعد یہ شرح 70 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی۔ یہ مسلسل دوسرا مہینہ ہے جب قیمتوں میں کمی کی توقع رکھنے والے خریداروں کی تعداد کم ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوری اور فروری میں صورتحال مختلف تھی، جب 36 فیصد افراد قیمتوں میں کمی، 35 فیصد اضافے اور 29 فیصد استحکام کی توقع رکھتے تھے۔ تاہم تنازع کے آغاز کے بعد بیشتر خریداروں نے قیمتیں گرنے کے انتظار میں خریداری مؤخر کر دی تھی۔
دوسری جانب فروخت کنندگان نے اپنی طلب کردہ قیمتوں میں معمولی کمی کی ہے۔ مئی میں اشتہاری قیمتیں تنازع سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً دو فیصد کم رہیں، جبکہ اپریل میں یہ فرق صرف ایک فیصد تھا۔
پراپرٹی فائنڈر کے چیف ریونیو آفیسر شریف سلیمان کے مطابق مارکیٹ اس مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں خریدار اور فروخت کنندگان آہستہ آہستہ جائیداد کی حقیقی قیمت پر متفق ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدوں میں بہتری اس وقت آتی ہے جب دونوں فریقوں کی توقعات ایک دوسرے کے قریب آنا شروع ہو جائیں، اور یہی رجحان اس وقت واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خریداری کی طلب مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کا رخ کرائے کی رہائش کی جانب منتقل ہوا ہے۔ مئی میں نئے کرایہ ناموں کی تعداد تنازع سے پہلے کے مقابلے میں صرف 20 فیصد کم رہی، جبکہ مارچ میں یہ کمی 32 فیصد تھی۔
اسی طرح مئی میں کرایے کی مجموعی سرگرمیوں میں 47 فیصد ایسے افراد شامل تھے جو نئی رہائش میں منتقل ہوئے، جبکہ مارچ میں یہ شرح 41 فیصد تھی، جس سے کرائے کی مارکیٹ میں نئی سرگرمی کا اظہار ہوتا ہے۔
داچا ریئل اسٹیٹ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر الیسیا شیگلووا کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال گھبراہٹ کی نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے والی مارکیٹ کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق خریدار پہلے سے زیادہ تحقیق اور مذاکرات کر رہے ہیں، جبکہ مناسب قیمت والی جائیدادوں پر نمایاں رعایت نہیں مل رہی۔
میک کون پراپرٹیز کے منیجنگ پارٹنر سیم میک کون نے کہا کہ ابتدا میں خریدار بہت کم قیمت کی پیشکشیں کر رہے تھے، لیکن اب انہیں اندازہ ہو گیا ہے کہ مناسب قیمت پر اچھی ڈیل تو ممکن ہے، مگر غیر حقیقی رعایت کی توقع درست نہیں۔ ان کے مطابق مناسب قیمت والی جائیدادیں فروخت ہو رہی ہیں اور پہلے تعطل کا شکار سودے بھی اب مکمل ہونے لگے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی جائیداد مارکیٹ میں یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ غیر یقینی صورتحال کے باوجود خریدار اور فروخت کنندگان دونوں زیادہ حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں، جس سے آئندہ مہینوں میں مارکیٹ مزید مستحکم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔







