متحدہ عرب امارات

ابوظہبی کی ڈرائیور کے بغیر ریسنگ لیگ پہلی بار اٹلی پہنچ گئی، خودکار گاڑیوں کی نئی ٹیکنالوجی یورپی موٹر اسپورٹس کے مرکز میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے گی

خلیج اردو
ابوظہبی کی خودکار ریسنگ لیگ اے ٹو آر ایل پانچ ستمبر کو پہلی بار اٹلی کے معروف ایمولا سرکٹ میں منعقد ہوگی، جہاں دنیا کے مشہور موٹر برانڈز کے درمیان متحدہ عرب امارات کی تیار کردہ ڈرائیور کے بغیر ریسنگ ٹیکنالوجی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے گی۔

ایسپائر کے ہاؤس آف گرینڈ چیلنجز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر الیساندرو توچی نے کہا، "ہم دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں خودکار ٹیکنالوجی کے میدان میں کیا پیش رفت ہو رہی ہے۔ ایمولا یورپی موٹر اسپورٹس کا تاریخی مرکز ہے، اس لیے وہاں ڈرائیور کے بغیر گاڑیوں کی ریس اس ٹیکنالوجی کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔”

اے ٹو آر ایل کا آغاز 2024 میں انتہائی مشکل حالات میں خودکار ڈرائیونگ کی آزمائش کے لیے کیا گیا تھا، جہاں بغیر ڈرائیور کے ریسنگ گاڑیاں 250 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار حاصل کرتی ہیں۔ یاس مرینا سرکٹ میں دو کامیاب سیزن کے بعد اب پہلی مرتبہ اس چیمپئن شپ کو بیرونِ ملک لے جایا جا رہا ہے۔

الیساندرو توچی کے مطابق ٹیموں کو ریس سے قبل صرف نو دن ٹریک پر تجربات کا موقع دیا جائے گا تاکہ وہ محدود وقت میں اپنے مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر کو نئے ماحول کے مطابق ڈھال سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم سافٹ ویئر کی صلاحیتوں کی حقیقی آزمائش چاہتے ہیں، اس لیے تیاری کے لیے کم وقت دینا جان بوجھ کر ہماری حکمت عملی کا حصہ ہے۔”

گزشتہ سیزن میں سابق فارمولا ون ڈرائیور دانیئل کویات نے خودکار ریسنگ کار کا مقابلہ کیا تھا، جہاں مصنوعی ذہانت اور انسانی ڈرائیور کے درمیان فی لیپ فرق صرف ایک اعشاریہ اٹھاون سیکنڈ رہ گیا، جبکہ تقریباً ڈیڑھ سال قبل یہی فرق دس سیکنڈ کے قریب تھا۔ کویات کے مطابق خودکار ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار غیر معمولی ہے۔

توچی نے کہا کہ ان کا مقصد انسان سے زیادہ تیز رفتار ثابت ہونا نہیں بلکہ ایسی خودکار گاڑیاں تیار کرنا ہے جو شہروں میں دوسری گاڑیوں، سائیکلوں، موٹر سائیکلوں اور پیدل چلنے والوں کے ساتھ محفوظ انداز میں سفر کر سکیں۔ ان کے مطابق مشینوں کی سب سے بڑی خوبی مستقل اور یکساں کارکردگی ہے، کیونکہ وہ نہ تھکتی ہیں، نہ توجہ بٹتی ہے اور نہ ہی موبائل فون یا دیگر عوامل سے متاثر ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً بارہ لاکھ افراد ٹریفک حادثات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جبکہ خودکار نظام مستقبل میں انسانی غلطیوں کے باعث ہونے والے حادثات کی بڑی تعداد کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ڈرائیور کے بغیر ٹیکنالوجی مستقبل کا تصور نہیں بلکہ آنے والے کل کی حقیقت ہے۔

ایمولا ریس کے موقع پر ایسپائر اطالوی اور یورپی آٹوموٹیو کمپنیوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ شراکت داری کے امکانات پر بھی بات چیت کرے گا، جبکہ چیمپئن شپ کا 2026 کا فائنل دوبارہ یاس مرینا سرکٹ، ابوظہبی میں منعقد ہوگا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button