
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں ایک اماراتی خاتون نے شادی اور مشترکہ کاروبار کے وعدوں پر تقریباً 10 لاکھ درہم سے محروم ہونے کے باوجود عدالت سے انصاف حاصل کر لیا۔ مقدمے میں واٹس ایپ پر ہونے والی گفتگو فیصلہ کن ثبوت ثابت ہوئی، جس کی بنیاد پر عدالت نے خاتون کے حق میں فیصلہ سنایا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملزم نے خاتون کو مشترکہ کاروبار اور شادی کا یقین دلا کر مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے آمادہ کیا۔ خاتون نے ان وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے نام پر بینک قرضے حاصل کیے اور بڑی رقوم ملزم کو منتقل کر دیں، اس یقین کے ساتھ کہ بعد میں دونوں کی شادی ہوگی اور رقم واپس کر دی جائے گی۔
بعد ازاں خاتون کو معلوم ہوا کہ ملزم پہلے سے شادی شدہ ہے اور مبینہ طور پر اسی طریقے سے دیگر خواتین کو بھی دھوکا دے چکا ہے۔ تحریری قرض نامہ موجود نہ ہونے کے باعث خاتون نے دبئی کی عدالت سے رجوع کیا، جہاں بینک ٹرانسفرز اور واٹس ایپ پیغامات کو ایک سال کی محنت کے بعد قانونی شواہد کی صورت میں پیش کیا گیا۔
عدالت نے معاملے کی جانچ کے لیے اکاؤنٹنگ اور بینکاری کے ماہر کو مقرر کیا، جس کی رپورٹ میں تصدیق ہوئی کہ ملزم نے خاتون سے بڑی رقم وصول کی تھی جس کا وہ قانونی طور پر حقدار نہیں تھا۔ واٹس ایپ پر موجود ایک پیغام میں ملزم نے معذرت کرتے ہوئے رقم واپس کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا، جسے اہم ثبوت قرار دیا گیا۔
عدالت نے ملزم کو تقریباً 10 لاکھ درہم واپس کرنے، ہرجانہ ادا کرنے، قانونی سود، عدالتی اخراجات اور وکلا کی فیس ادا کرنے کا حکم دیا۔
قانونی ماہر احمد الزرعونی کے مطابق یہ مقدمہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ مالی معاملات میں صرف اعتماد کافی نہیں ہوتا، بلکہ تمام لین دین اور رابطوں کا ریکارڈ محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے وفاقی حکمنامہ قانون نمبر 35 برائے 2022 کے تحت واٹس ایپ سمیت الیکٹرانک پیغامات، اگر ان کی صداقت ثابت ہو جائے، تو تحریری دستاویزات جتنی قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔
یہ فیصلہ اس امر کو بھی واضح کرتا ہے کہ تحریری معاہدہ نہ ہونے کے باوجود ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر مالی حقوق کا قانونی تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے۔







