
خلیج اردو
بھارت کی وزارتِ خارجہ کی حالیہ وضاحت کے بعد بھارتی پاسپورٹ سے متعلق کئی عام غلط فہمیاں ایک بار پھر زیرِ بحث آ گئی ہیں۔ وزارت نے واضح کیا ہے کہ بھارتی پاسپورٹ بنیادی طور پر سفری دستاویز ہے، اسے شہریت کا حتمی قانونی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
وزارت کے مطابق بھارتی شہریت کا تعین شہریت ایکٹ کے تحت ہوتا ہے، جبکہ پاسپورٹ پاسپورٹ ایکٹ کے مطابق جاری کیا جاتا ہے۔ غیرمعمولی حالات میں حکومت عوامی مفاد کے تحت غیر شہری کو بھی سفری دستاویز جاری کر سکتی ہے۔
حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ موجودہ پاسپورٹ اپنی میعاد ختم ہونے تک مکمل طور پر کارآمد رہیں گے اور الیکٹرانک چِپ والے نئے ای پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے فوری تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ ای پاسپورٹ میں نصب چِپ صرف شناختی اور حیاتیاتی معلومات محفوظ رکھتی ہے، یہ کسی شخص کی موجودہ جگہ کی نگرانی یا نشاندہی نہیں کرتی۔
یکم جولائی سے بھارت میں پاسپورٹ کے اجرا اور دوبارہ اجرا کی فیسوں میں تبدیلی بھی نافذ ہو رہی ہے۔ نئی فیسوں کا اطلاق صرف ان درخواستوں پر ہوگا جو مقررہ تاریخ کے بعد جمع کرائی جائیں گی، جبکہ پہلے سے جاری شدہ پاسپورٹ متاثر نہیں ہوں گے۔
ماہرین نے مسافروں کو یاد دلایا ہے کہ کئی ممالک میں سفر کے لیے پاسپورٹ کی کم از کم چھ ماہ کی میعاد باقی ہونا ضروری ہے، بصورت دیگر ایئرلائن سفر کی اجازت دینے سے انکار کر سکتی ہے۔ اسی طرح پاسپورٹ کے ختم ہونے، صفحات بھر جانے، گم ہونے، خراب ہونے یا ذاتی معلومات میں تبدیلی کی صورت میں عام طور پر دوبارہ اجرا کی درخواست دی جاتی ہے، نہ کہ صرف تجدید کی۔
بھارتی قوانین کے مطابق دوہری شہریت کی اجازت نہیں، جبکہ اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ رکھنے والے افراد کو بھی بھارتی شہریت یا ووٹ کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں، پھٹا ہوا، پانی سے خراب یا چِپ سے متاثرہ پاسپورٹ سفری یا ویزا کارروائی کے دوران مسترد کیا جا سکتا ہے، اس لیے ایسے پاسپورٹ کو بروقت تبدیل کرانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
یہ وضاحتیں خاص طور پر بیرونِ ملک مقیم بھارتی شہریوں اور بین الاقوامی سفر کی منصوبہ بندی کرنے والے مسافروں کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔







