
خلیج اردو
بھارت کی ریاست کیرالہ میں شدید سیلاب کے دوران ایک ریسکیو رضاکار نے انسانی جان بچانے کے لیے اپنی جان قربان کردی۔
سوئمنگ انسٹرکٹر اور ریسکیو رضاکار آر راجیش یکم اگست کو کنور کے علاقے میں 61 سالہ کسان بینی کو سیلابی ریلے سے بچانے کے لیے پہنچا تھا۔
بینی کے مطابق وہ کنور کے چیرپوژا علاقے میں واقع اپنے کافی کے باغ میں گیا تھا جہاں قریبی کرناٹک کے جنگلات میں لینڈ سلائیڈنگ کے بعد صورتحال خراب ہوگئی۔
کچھ ہی دیر میں دریائے کاریانگوڈے میں پانی تیزی سے بلند ہونے لگا اور پانی بینی کی کمر تک پہنچ گیا۔ تیز بہاؤ کے باعث وہ اپنا توازن کھو بیٹھا جبکہ اس کا شیڈ اور سامان بھی پانی میں بہہ گیا۔
پانی گردن تک پہنچنے پر بینی نے ناریل کے درخت کو پکڑ لیا اور مدد کا انتظار کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد راجیش اور اس کی ٹیم وہاں پہنچی اور اسے رسی پھینکی۔
بینی کے مطابق رسی درخت سے باندھتے ہوئے اس کی انگلی پھنس گئی تو راجیش مدد کے لیے تیر کر اس کے قریب پہنچا۔ راجیش نے اپنی لائف جیکٹ بھی بینی کو پہنا دی اور تین ریسکیو اہلکاروں کی ٹیم اسے محفوظ مقام کی طرف لے جانے لگی۔
بینی بحفاظت کنارے تک پہنچ گیا تاہم جب اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو راجیش تیز پانی کے ریلے میں بہہ چکا تھا۔
کیرالہ کے وزیراعلیٰ وی ڈی ستھیشن نے راجیش کو بے لوث ریسکیو رضاکار قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسے سرکاری اعزاز کے ساتھ خراج عقیدت پیش کیا جائے گا جبکہ حکومت اس کے زیر تعمیر گھر کی تعمیر بھی مکمل کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے راجیش کے گھر جا کر اہل خانہ سے تعزیت بھی کی۔
بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق کیرالہ میں شدید مون سون بارشوں اور سیلاب کے باعث کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 50 سے زائد گھر تباہ اور تقریباً 18 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔
ریاستی حکومت نے سیلاب متاثرین کے لیے مالی امداد اور بحالی کے متعدد اقدامات کا اعلان بھی کیا ہے۔ جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے لیے 8 لاکھ بھارتی روپے جبکہ متاثرہ خاندانوں اور تباہ ہونے والے گھروں کے لیے بھی مختلف امدادی پیکجز کا اعلان کیا گیا ہے۔






