متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں بچوں کے میڈیا مواد کے لیے قومی معیار متعارف کرانے کا فیصلہ، محفوظ، تعلیمی اور مثبت مواد کو فروغ دینے کے لیے نئی پالیسی نافذ ہوگی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی نیشنل میڈیا اتھارٹی نے بچوں کے لیے تیار کیے جانے والے میڈیا مواد کے معیار کو بہتر بنانے اور محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنے کے لیے قومی معیار اور نئی درجہ بندی پالیسی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان نیشنل میڈیا اتھارٹی کے میڈیا حکمتِ عملی اور پالیسی شعبے کی چیف ایگزیکٹو آفیسر میثاء ماجد السویدی نے کابینہ کے اس فیصلے سے متعلق بریفنگ کے دوران کیا، جس میں بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کو منظم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔

میثاء ماجد السویدی نے کہا، "ہمارا مسئلہ مواد کی کمی یا اس تک آسان رسائی نہیں بلکہ بچوں کے لیے پیش کیے جانے والے مواد کا معیار ہے۔ ہمارا مقصد صرف بچوں کو خطرات سے بچانا نہیں بلکہ ایسا میڈیا فروغ دینا ہے جو ان کی صلاحیتوں کو نکھارے اور مثبت اقدار کو فروغ دے۔”

انہوں نے بتایا کہ نیشنل میڈیا اتھارٹی، چائلڈ ڈیجیٹل سیفٹی کونسل کے تعاون سے دو نئے فریم ورک تیار کرے گی۔ پہلے فریم ورک کے تحت بچوں کے لیے قومی میڈیا مواد کے معیار کی رہنما دستاویز تیار کی جائے گی، جس میں ہر عمر کے مطابق مناسب مواد کی وضاحت ہوگی اور یہ میڈیا اداروں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے بنیادی رہنما اصول ہوگی۔

دوسرے فریم ورک میں عمر کے لحاظ سے درجہ بندی کی جامع پالیسی شامل ہوگی، جس کا اطلاق سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، کتابوں، فلموں اور موسیقی سمیت تمام میڈیا اور فن پاروں پر ہوگا۔

اتھارٹی کے مطابق ان اقدامات کا مقصد والدین کو بہتر رہنمائی فراہم کرنا، بچوں کے لیے معیاری مواد کی تیاری کو فروغ دینا اور میڈیا اداروں کی ذمہ داریوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

حکام نے واضح کیا کہ ان نئے معیار کی تیاری میں بچوں کی آرا کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ ہر عمر کے لیے موزوں اور مفید مواد کی بہتر نشاندہی کی جا سکے۔

یہ اقدامات کابینہ کے اس فیصلے کا حصہ ہیں جس کے تحت سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کے لیے کم از کم عمر پندرہ سال مقرر کی گئی ہے اور شناخت کی تصدیق کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ متحدہ عرب امارات نئی نسل کے لیے ایسا ڈیجیٹل ماحول تشکیل دینا چاہتا ہے جو صرف محفوظ ہی نہیں بلکہ تعلیمی، تعمیری اور مثبت اقدار کو فروغ دینے والا بھی ہو۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button