
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں روایتی موسم القیظ کا آغاز ہو گیا ہے، جسے ہر سال شدید ترین گرمی کا دور تصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین فلکیات کے مطابق تین جولائی سے شروع ہونے والا یہ مرحلہ جزیرۂ عرب میں سال کا گرم ترین عرصہ ہوتا ہے، جس کے دوران بعض علاقوں میں درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔
امارات فلکیاتی سوسائٹی کے چیئرمین ابراہیم الجروان کے مطابق "جمرۃ القیظ” یعنی گرمی کی شدید ترین لہر کا آغاز طلوعِ آفتاب کے وقت برجِ جوزا کے پہلے ستارے کے نمودار ہونے سے ہوتا ہے۔ اس دوران صحرائی گرم ہوائیں، جنہیں سموم کہا جاتا ہے، پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔
فلکیاتی روایت کے مطابق القیظ کے مختلف مراحل مخصوص ستاروں کے طلوع سے منسلک ہیں۔ الحقعہ تین جولائی، الہنعہ سولہ جولائی اور المرزم انتیس جولائی کو طلوع ہوتا ہے، جبکہ گیارہ اگست کے قریب یہ موسم اختتام پذیر ہو کر نسبتاً مرطوب دور وقتِ سہیل میں داخل ہو جاتا ہے۔
یہ موسم کھجور کے کاشتکاروں کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اسی دوران ابتدائی کھجوریں پکنا شروع ہوتی ہیں۔ تباشیر الرطب کے نام سے معروف اس مرحلے میں النغال، الخطری، الخنیزی، الخلاص، الجبری، الخصاب اور الہلالی جیسی مختلف اقسام مرحلہ وار تیار ہوتی ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں کھجور کے درخت کو "ماں کا درخت” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے پھل کے ساتھ ساتھ اس کی شاخیں اور پتے بھی مختلف روایتی استعمالات میں کام آتے ہیں۔
شدید گرمی کے پیشِ نظر متحدہ عرب امارات میں پندرہ جون سے پندرہ ستمبر تک دوپہر بارہ بج کر تیس منٹ سے سہ پہر تین بجے تک کھلے مقامات پر کام کرنے پر پابندی نافذ رہتی ہے۔ ماہرین صحت شہریوں کو ہدایت دیتے ہیں کہ پانی زیادہ پئیں، دوپہر کے وقت دھوپ سے گریز کریں، ہلکے کپڑے پہنیں اور بچوں یا پالتو جانوروں کو کسی بھی صورت بند گاڑی میں نہ چھوڑیں۔
یہ روایتی موسم آج بھی متحدہ عرب امارات میں روزمرہ زندگی، زرعی سرگرمیوں اور عوامی حفاظتی اقدامات پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔







