
خلیج اردو
دبئی: اسٹیج فور آنتوں کے کینسر کو شکست دینے والے 68 سالہ گائیڈو ڈی وائلڈ نے کینسر کے مریضوں میں امید پیدا کرنے کے لیے 3,333 کلومیٹر طویل سائیکل سفر شروع کر دیا ہے۔
گائیڈو ڈی وائلڈ 15 رکنی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں، جو "سائیکل اگینسٹ کینسر” مہم کے تحت یکم جولائی کو اسپین کے شہر بارسلونا سے روانہ ہوئی۔ 25 روزہ یہ سفر فرانس کے دارالحکومت پیرس تک جاری رہے گا، جس میں سائیکلسٹ 54 ہزار میٹر سے زائد بلندی کا سفر بھی طے کریں گے۔
گائیڈو ڈی وائلڈ نے کہا کہ اس مہم کا مقصد صرف ایک مشکل سائیکل سفر مکمل کرنا نہیں بلکہ کینسر کے مریضوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ تشخیص زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئی جدوجہد کا آغاز ہو سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جنوری 2020 میں انہیں اسٹیج فور آنتوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ اس وقت وہ مشرق وسطیٰ، ترکی اور مصر میں 170 سے زائد ہوٹلوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ ان کے بقول ڈاکٹر نے تشخیص کے ساتھ ہی انہیں امید بھی دلائی کہ بیماری کا علاج ممکن ہے، اور یہی امید ان کی طاقت بن گئی۔
چھ ماہ تک جاری کیموتھراپی کے دوران انہوں نے گھر میں ورچوئل ٹریننگ سسٹم پر روزانہ سائیکلنگ جاری رکھی اور اسی جذبے نے انہیں بیماری سے لڑنے کا حوصلہ دیا۔
"سائیکل اگینسٹ کینسر” ٹیم میں ایک اور اسٹیج فور کینسر سروائیور بھی شامل ہے، جبکہ دیگر سائیکلسٹ اپنے ان عزیزوں کی یاد یا حوصلہ افزائی کے لیے سفر کر رہے ہیں جو کینسر سے انتقال کر چکے ہیں یا اب بھی زیر علاج ہیں۔
اس مہم کے ذریعے جمع ہونے والے فنڈز متحدہ عرب امارات میں کینسر کے مریضوں کے علاج، تحقیق اور طبی سہولیات کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ گائیڈو ڈی وائلڈ کا کہنا ہے کہ یو اے ای میں ہر سال سات ہزار سے زائد افراد میں کینسر کی تشخیص ہوتی ہے، ایسے میں یہ امداد بہت سے مریضوں کے لیے بروقت علاج اور نئی امید کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیم کا ہر رکن کسی نہ کسی مریض کی کہانی اپنے ساتھ پیرس تک لے کر جا رہا ہے، اور یہی احساس انہیں ہر مشکل مرحلہ عبور کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔







