متحدہ عرب امارات

امریکا کا ایران پر بڑا حملہ، 80 سے زائد اہداف نشانہ، تہران کا سخت ردعمل

خلیج اردو
امریکا نے ایران میں 80 سے زائد فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کی گئی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کے تحفظ اور مستقبل میں ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے فوجی آپریشن شروع کیا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق حملوں میں ایران کے ایئر ڈیفنس سسٹمز، ساحلی نگرانی کے مراکز، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، اینٹی شپ کروز میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کی کارروائیوں کو بلااشتعال، خطرناک اور عالمی سمندری سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق سیریک، بندر عباس اور جزیرہ قشم میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ سیریک میں طاہروی گھاٹ کے قریب چھ پروجیکٹائل گرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

ایرانی مشترکہ فوجی کمان نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح افواج اس جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گی۔ پاسدارانِ انقلاب نے بھی امریکی حملوں کا تباہ کن جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا اور آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی بھی امریکی مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزی کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے امریکی پابندیوں میں نرمی واپس لینے کے فیصلے کی بھی مذمت کی ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کے لیے محفوظ راستے کا تعین صرف ایران کرے گا۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر تیل فروخت کرنے کی پابندیاں دوبارہ عائد کر دی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ نئی پابندیوں کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ ماہ امریکا نے ایران کو 21 اگست تک تیل فروخت کرنے کی عارضی اجازت دی تھی، جسے اب واپس لے لیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button