متحدہ عرب امارات

دبئی کے پہلے درزی شیخ عبدالرحمن المدنی 97 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

خلیج اردو
دبئی کے پہلے درزی اور روایتی اماراتی کندورہ کو شناخت بخشنے والی ممتاز شخصیت شیخ عبدالرحمن الشافعی المدنی 97 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے تقریباً آٹھ دہائیوں تک اپنی ہنرمندی سے دبئی کی تاریخ میں ایک منفرد مقام بنایا۔

شیخ عبدالرحمن المدنی نے 1947 میں دیرا کے علاقے الراس میں کریک کے کنارے ایک چھوٹی سی دکان سے نیشنل ٹیلرز کی بنیاد رکھی۔ ابتدائی دور میں وہ موتیوں کے غوطہ خوروں کے لیے جیلی فش سے محفوظ رکھنے والے خصوصی لباس تیار کرتے تھے، بعد ازاں ان کا نام روایتی اماراتی کندورے کے ساتھ جڑ گیا۔

ان کے انتقال پر ملک بھر سے تعزیتی پیغامات موصول ہوئے۔ متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے انہیں پرانے دیرا کی نمایاں شخصیات میں شمار کرتے ہوئے ان کی شائستگی، وقار، محنت اور خوش اخلاقی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

ان کے پوتے، اماراتی فلم ساز اور مصنف عبدالرحمن المدنی نے بتایا کہ ان کے دادا انتہائی سخی، خوش مزاج اور محنتی انسان تھے۔ ان کے مطابق، بڑھاپے میں بھی وہ روزانہ اپنی دکان جاتے اور اپنے کام سے غیرمعمولی لگاؤ رکھتے تھے۔

شیخ عبدالرحمن المدنی نے محدود وسائل سے آغاز کیا، پھر 1960 کی دہائی میں زمین خریدی، 1970 کی دہائی میں تعمیراتی کمپنی قائم کی، جبکہ خاندانی ٹیلرنگ کاروبار کو وسعت دیتے ہوئے اسے متحدہ عرب امارات بھر میں درجنوں برانچز تک پہنچایا۔ 1992 میں ان کے گروپ نے ملک کے پہلے شاپنگ مال میں قائم ہونے والے ٹیلرنگ اسٹور کا بھی افتتاح کیا۔

ان کے پوتے کا کہنا ہے کہ ان کے دادا کی زندگی جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایسی داستان ہے جو اپنی جگہ ایک فلم بننے کی مستحق ہے، اور اسی سفر نے انہیں بھی اپنی پسند کے شعبے میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button