متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات سے بھارت سونا لے جانا، زیورات خریدنا زیادہ فائدہ مند قرار

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں مقیم بھارتی شہریوں اور سیاحوں کے لیے ماہرین نے سونے کے سکوں کے بجائے زیورات خریدنے کو زیادہ فائدہ مند قرار دیا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف اضافی اخراجات سے بچا جا سکتا ہے بلکہ سفر کے دوران بھی کم مشکلات پیش آتی ہیں۔

دبئی کے معروف جیولرز کے مطابق متحدہ عرب امارات سے سونا خریدنے پر بھارتی خریداروں کو بھارت کے مقابلے میں تقریباً 12 سے 15 فیصد تک بچت ہو سکتی ہے۔

Kanz Jewels کے منیجنگ ڈائریکٹر انیل دھانک کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص بعد میں سونے کے سکوں کو زیورات میں تبدیل کرواتا ہے تو اسے اضافی میکنگ چارجز ادا کرنا پڑتے ہیں، جبکہ سیاحوں کو سونے کے سکے ساتھ لے جانے میں بھی بعض اوقات سفری پابندیوں یا عملی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق براہِ راست زیورات خریدنا زیادہ آسان اور سستا انتخاب ہے۔

Malabar Gold and Diamonds کے انٹرنیشنل آپریشنز کے منیجنگ ڈائریکٹر شملال احمد نے کہا کہ بھارت میں سونے پر بڑھتی ہوئی درآمدی ڈیوٹیز کے باعث متحدہ عرب امارات میں سونا عموماً تقریباً 15 فیصد سستا ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سرمایہ کاری کے مقصد سے خریدے جانے والے بعض 24 قیراط گولڈ بارز اور بلین مصنوعات پر متحدہ عرب امارات میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) لاگو نہیں ہوتا، جبکہ سیاح وی اے ٹی ریفنڈ بھی حاصل کر سکتے ہیں، جس سے مزید بچت ممکن ہوتی ہے۔

دبئی میں 24 قیراط سونے کی قیمت 496.50 درہم، 22 قیراط 459.75 درہم، 21 قیراط 440.75 درہم جبکہ 18 قیراط سونا 377.75 درہم فی گرام پر فروخت ہو رہا ہے۔

جیولرز کے مطابق دبئی میں مقیم زیادہ تر بھارتی شہری ذاتی استعمال، تحائف، تہواروں اور خاص طور پر شادیوں کے لیے زیورات خریدتے ہیں، جبکہ سکے اور گولڈ بارز زیادہ تر سرمایہ کاری یا دولت محفوظ رکھنے کے مقصد سے خریدے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں سونے کی خالصیت اور معیار پر سخت حکومتی نگرانی ہونے کی وجہ سے خریداروں کا اعتماد بھی زیادہ ہے۔

ماہرین نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ سفر سے پہلے بھارت کے تازہ کسٹمز قوانین ضرور چیک کریں۔ فروری 2026 سے نافذ بھارتی قوانین کے مطابق خواتین مخصوص شرائط کے تحت 40 گرام جبکہ مرد 20 گرام تک سونے کے زیورات ڈیوٹی فری بھارت لے جا سکتے ہیں۔ تاہم سفر سے قبل تازہ ترین قواعد و ضوابط اور مطلوبہ دستاویزات کی تصدیق ضرور کر لینی چاہیے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button