
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں گرمیوں کی تعطیلات کے دوران سڑکوں پر ٹریفک میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مناسب اقدامات کیے جائیں تو اس بہتری کو تعلیمی سال کے آغاز کے بعد بھی کسی حد تک برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دفاتر کے اوقات میں مرحلہ وار تبدیلی، ملازمین کے لیے لچکدار ڈیوٹی ٹائمنگ، محدود ورک فرام ہوم، کار پولنگ اور اسکول بسوں کے زیادہ استعمال سے صبح اور شام کے مصروف ترین اوقات میں ٹریفک کا دباؤ نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی سب سے بڑی نجی اسکول بس کمپنی STS Group کے چیف ایگزیکٹو اسٹیو برنیل نے کہا کہ ہر سال گرمیوں کی تعطیلات میں صبح کے وقت ٹریفک کی روانی بہتر ہو جاتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف گاڑیوں کی تعداد نہیں بلکہ ایک ہی وقت میں سڑکوں پر آنے والی گاڑیوں کا دباؤ بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر دفاتر کے اوقات میں لچک، ورک فرام ہوم اور اسکول بسوں کے استعمال کو فروغ دیا جائے تو بغیر نئی سڑکیں تعمیر کیے موجودہ انفراسٹرکچر سے زیادہ بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
دبئی حکومت کی سابقہ تحقیق کے مطابق اگر ملازمین کو دفتر آنے کے لیے دو گھنٹے کا لچکدار وقت دیا جائے اور ہر ماہ چار سے پانچ دن گھر سے کام کرنے کی اجازت ہو تو صبح کے اوقات میں سفر کا دورانیہ تقریباً 30 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر 20 فیصد ملازمین گھر سے کام کریں تو شیخ زاید روڈ پر ٹریفک کا حجم تقریباً 9.8 فیصد جبکہ الخیل روڈ پر 8.4 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
RoadSafetyUAE کے بانی اور منیجنگ ڈائریکٹر تھامس ایڈل مین کا کہنا ہے کہ اسکولوں کے اوقات یقیناً رش میں اضافہ کرتے ہیں، تاہم انہیں ٹریفک کا واحد سبب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق کار پولنگ، اسکول بسوں کے استعمال اور دفاتر کے لچکدار اوقات جیسے اقدامات مجموعی ٹریفک کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے آر ٹی اے کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک اسکول بس تقریباً 50 نجی گاڑیوں کو سڑک سے ہٹا سکتی ہے، جس سے نہ صرف ٹریفک بلکہ آلودگی میں بھی کمی آتی ہے اور طلبہ کا سفر زیادہ محفوظ بنتا ہے۔
اسٹیو برنیل نے کہا کہ اسکول بسیں مسئلے کا نہیں بلکہ اس کے حل کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق ہر وہ بچہ جو نجی گاڑی کے بجائے اسکول بس استعمال کرتا ہے، سڑکوں پر ایک گاڑی کم ہو جاتی ہے۔
اسی مقصد کے تحت دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) نے حال ہی میں Yango Group اور Urban Express کے تعاون سے اسکول ٹرانسپورٹ پولنگ کا آزمائشی منصوبہ بھی شروع کیا ہے، جس کے تحت ایک ہی علاقے کے طلبہ کو مشترکہ گاڑیوں کے ذریعے اسکول پہنچایا جا رہا ہے تاکہ ٹریفک، سفری اخراجات اور کاربن اخراج میں کمی لائی جا سکے۔
دوسری جانب TASC Outsourcing کے گروپ چیئرمین مہیش شاہدادپوری کا کہنا ہے کہ دفتری اوقات میں لچک اب صرف ملازمین کی سہولت نہیں بلکہ کاروباری حکمت عملی بن چکی ہے۔ ان کے مطابق بہت سے دفتری شعبوں میں دو گھنٹے کی لچکدار آمد کا نظام عملی طور پر ممکن ہے، تاہم صحت، ریٹیل، مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور مہمان نوازی جیسے شعبوں میں مکمل ورک فرام ہوم ممکن نہیں، البتہ وہاں بھی شفٹوں میں تبدیلی اور لچکدار شیڈول کے ذریعے ٹریفک کے دباؤ میں کمی لائی جا سکتی ہے۔







