
خلیج اردو
کئی برس تک سام سنگ کو ایسی اسمارٹ فون کمپنی سمجھا جاتا رہا جو ایپل کا پیچھا کر رہی ہے لیکن اب یہ تصور تیزی سے پرانا ہوتا جا رہا ہے۔ فولڈ ایبل فونز کی دوڑ میں سام سنگ نے اپنی برتری واضح کردی ہے اور ایپل اب ایک ایسے شعبے میں داخل ہونے جا رہا ہے جسے سام سنگ کئی سال سے ترقی دے رہا ہے۔
نیا Galaxy Z Fold8 اس کی واضح مثال ہے۔ یہ پاسپورٹ نما ڈیزائن رکھنے والا کمپیکٹ فولڈ ایبل فون ہے جس میں 5.5 انچ کی بیرونی اسکرین جبکہ کھولنے پر 7.6 انچ کا اندرونی ڈسپلے ملتا ہے۔ یہ خصوصیات ان رپورٹس سے کافی مشابہ ہیں جو ایپل کے پہلے فولڈ ایبل آئی فون کے حوالے سے سامنے آ رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایپل کے فولڈ ایبل آئی فون میں بھی تقریباً 5.5 انچ کی کور اسکرین اور تقریباً 8 انچ کے قریب اندرونی ڈسپلے ہوسکتا ہے۔
ایپل نے ابھی تک فولڈ ایبل آئی فون کا باضابطہ اعلان نہیں کیا تاہم معتبر رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ڈیوائس رواں سال کے آخر میں سامنے آسکتی ہے۔
اس طرح ممکنہ طور پر سام سنگ نے ایسا فولڈ ایبل فون پہلے ہی مارکیٹ میں پیش کردیا ہے جو ان خصوصیات سے ملتا جلتا ہے جن کے بارے میں ایپل کے فولڈ ایبل آئی فون کے حوالے سے طویل عرصے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
اصل اہمیت صرف اس بات کی نہیں کہ سام سنگ پہلے آگیا بلکہ یہ ہے کہ کمپنی نے کئی سال فولڈ ایبل فونز کے ساتھ تجربات کرتے ہوئے یہ سیکھا ہے کہ صارفین کے لیے کیا بہتر کام کرتا ہے۔
سام سنگ کا پہلا Galaxy Fold ایک انقلابی تصور ضرور تھا لیکن اس میں کئی خامیاں تھیں۔ بعد کی نسلوں میں قبضے کے نظام کو بہتر بنایا گیا، وزن کم کیا گیا، ڈسپلے کو مضبوط بنایا گیا اور بیرونی اسکرین کو زیادہ قابل استعمال بنایا گیا۔
اب آٹھویں نسل میں سام سنگ صارفین کو تین مختلف آپشنز فراہم کر رہا ہے۔ Flip8 زیادہ پورٹیبل استعمال کے لیے، Fold8 تفریح اور روزمرہ استعمال کے لیے جبکہ Fold8 Ultra زیادہ پیداواری اور ملٹی ٹاسکنگ ضروریات کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
نئے ڈیزائن والا Fold8 ان تینوں میں خاص طور پر دلچسپ دکھائی دیتا ہے۔ صرف 201 گرام وزن کے ساتھ یہ سام سنگ کا اب تک کا سب سے ہلکا Fold فون ہے۔ اسے کھولنے پر 4:3 تناسب والی اسکرین ویڈیوز، گیمز، ویب سائٹس اور کتابوں کے لیے پہلے کے نسبتاً تنگ فولڈ ایبل ڈسپلے کے مقابلے میں زیادہ موزوں محسوس ہوتی ہے۔
یہ فون بنیادی طور پر ایک چھوٹے ٹیبلٹ جیسا تجربہ فراہم کرتا ہے جسے اب بھی آسانی سے جیب میں رکھا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب Fold8 Ultra میں 8 انچ اسکرین، 200 میگا پکسل کیمرہ، 5,000mAh بیٹری اور ملٹی ٹاسکنگ کے مختلف فیچرز شامل ہیں۔ یہ خصوصیات اسے ایسے صارفین کے لیے زیادہ پرکشش بناتی ہیں جو ایک فون کے ساتھ الگ پیداواری ڈیوائس رکھنے کی ضرورت کم کرنا چاہتے ہیں۔
سام سنگ کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی ایک اہم برتری حاصل ہے۔ Galaxy AI اور Gemini کو فون کے فولڈ ایبل ڈیزائن کے مطابق استعمال کیا جا رہا ہے اور انہیں محض الگ الگ فیچرز کے طور پر شامل نہیں کیا گیا۔
بڑی اسکرینز کی بدولت صارف ایک ہی وقت میں گفتگو، دستاویزات اور متعلقہ معلومات دیکھ سکتا ہے جبکہ Now Nudge اور Gemini Intelligence جیسے ٹولز معاون ایپس کے درمیان مختلف کام تجویز کرنے اور مکمل کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
سام سنگ نے کہا ہے کہ وہ 2026 میں اپنے AI سے لیس موبائل ڈیوائسز کی تعداد دگنی کرکے 800 ملین تک پہنچانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
تاہم ایپل جب فولڈ ایبل فونز کی مارکیٹ میں داخل ہوگا تو اس کے پاس بھی اپنی مضبوطیاں ہوں گی۔ کمپنی کے کیمرے خصوصاً ویڈیو کے حوالے سے اب بھی بہترین اور مستقل کارکردگی کے لیے جانے جاتے ہیں جبکہ ایپل کا مضبوط ایکو سسٹم، سافٹ ویئر کا معیار اور صارفین کی وفاداری بھی بڑی طاقت ہے۔
ایپل کو ایک فائدہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسے فولڈ ایبل فونز کی ابتدائی خامیوں سے خود سیکھنے کے بجائے سام سنگ اور دیگر کمپنیوں کے کئی سالہ تجربے سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔
لیکن دیر سے مارکیٹ میں داخل ہونے کا فائدہ اسی وقت ہوتا ہے جب حتمی پراڈکٹ مارکیٹ کا انداز ہی بدل دے۔
سام سنگ فولڈ ایبل فونز کی آٹھویں نسل میں داخل ہوچکا ہے جبکہ ایپل اپنا پہلا فولڈ ایبل آئی فون تیار کر رہا ہے۔ Fold8 پہلے ہی ان خصوصیات سے خاصی مشابہت رکھتا ہے جن کے بارے میں ایپل کے فولڈ ایبل فون کی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔ اس لیے تجربے، مختلف مصنوعات اور فولڈ ایبل فونز کے لیے مخصوص سافٹ ویئر کے معاملے میں سام سنگ کو واضح برتری حاصل ہے۔
ممکن ہے ایپل اپنی پہلی نسل کا سب سے زیادہ نفیس فولڈ ایبل فون تیار کرنے میں کامیاب ہوجائے لیکن اس بار وہ کسی نئی کیٹیگری کی بنیاد رکھنے والا نہیں ہوگا۔ ایپل ایک ایسی مارکیٹ میں داخل ہوگا جسے سام سنگ کئی سال سے تشکیل دے رہا ہے اور اسے ایک ایسی کمپنی کا مقابلہ کرنا ہوگا جو اس شعبے میں پہلے ہی کئی قدم آگے ہے۔







