
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات اور خلیجی خطے میں فضائی آپریشن معمول پر آنے کے بعد یورپ جانے والے مسافر ایک بار پھر خلیجی ایئرلائنز کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ ٹریول ایجنٹس کے مطابق پروازوں میں استحکام آنے سے مسافروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور بکنگ میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
Geof Travel کے چیف ایگزیکٹو جیفری سلاٹن نے کہا کہ مسافروں کے پاس اب پروازوں کے زیادہ آپشنز موجود ہیں، جس کے باعث وہ پہلے سے سفر کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور بکنگ کی سرگرمیوں میں بہتری آ رہی ہے۔
رائٹرز کے مطابق جون کے وسط تک خلیجی ممالک کی ایئرلائنز کی تقریباً 90 فیصد پروازیں معمول کے مطابق بحال ہو چکی تھیں۔ اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان مختصر جنگ بندی کے بعد دوبارہ کشیدگی پیدا ہوئی ہے، تاہم متحدہ عرب امارات کی ایئرلائنز بدستور تقریباً مکمل استعداد کے ساتھ اپنی پروازیں چلا رہی ہیں۔
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، شارجہ ایئرپورٹ اور زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت ملک بھر کے ہوائی اڈے گرمیوں کے مصروف سفری سیزن میں مسافروں کی بڑی تعداد کے استقبال کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
جیفری سلاٹن کے مطابق اگرچہ بہت سے مسافر دوبارہ اماراتی ایئرلائنز کا انتخاب کر رہے ہیں، لیکن حتمی فیصلہ صرف ایئرلائن کے ملک پر نہیں بلکہ کرایوں، پروازوں کے اوقات، کنیکٹیویٹی، سامان کی سہولت، سروس کے معیار اور مجموعی سفری آسانی پر منحصر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ Emirates اور Etihad Airways اپنے وسیع روٹ نیٹ ورک، معیاری خدمات اور بہترین کنیکٹیویٹی کے باعث بدستور مسافروں کی اولین پسند ہیں، تاہم ایشیائی ایئرلائنز بھی مسابقتی کرایوں اور اچھی سروس کے ذریعے اپنی جگہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
MPQ Travel & Tourism کی بانی مالو پراڈو کا کہنا ہے کہ خطے میں فضائی آپریشن مکمل طور پر بحال ہونے کے بعد دوبارہ دبئی کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کے مطابق بہت سے مسافر، جو پہلے ایشیائی ایئرلائنز پر غور کر رہے تھے، اب دوبارہ امارات اور اتحاد ایئرویز کا انتخاب کر رہے ہیں کیونکہ ان کی پروازیں زیادہ قابل اعتماد، کنکشن بہتر اور یورپ کے لیے زیادہ آسان ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ مسابقتی کرایے اب بھی اہم عنصر ہیں، لیکن پروازوں کی دستیابی، کم سفری وقت، معیاری خدمات اور آسان سفری شیڈول بھی مسافروں کے فیصلے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔







