خلیجی خبریں

امریکا۔ایران کشیدگی میں ایک بار پھر شدت، ایران کے متعدد عرب ممالک پر حملے، جنگ بندی کیوں ٹوٹی؟

خلیج اردو
امریکا اور ایران کے درمیان تین ماہ قبل ہونے والی جنگ بندی اور بعد ازاں دستخط کیے گئے مفاہمتی معاہدے (MoU) کے باوجود کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایران نے اتوار کی صبح قطر، بحرین، کویت، عمان، اردن اور دیگر مقامات پر حملے کیے، جنہیں اس نے امریکی "جارحیت” کا جواب قرار دیا۔

ایران کی جانب سے حملوں کے بعد بحرین میں تین مرتبہ سائرن بجائے گئے، قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جہاں حکام کے مطابق بیلسٹک میزائل حملے ناکام بنائے گئے، تاہم ملبہ گرنے سے ایک بچے سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔

کویت نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے فضائی اہداف کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ اردن کے مطابق ایران سے داغے گئے تین میزائل اس کی حدود میں گرے، تاہم صرف معمولی مالی نقصان ہوا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ عمان نے بھی مسندم گورنری میں ڈرون حملوں کی تصدیق کی، جبکہ متحدہ عرب امارات نے میزائل الرٹ جاری کرنے کے بعد واضح کیا کہ ممکنہ خطرات ملکی سرحدوں سے باہر تھے اور ملک میں صورتحال محفوظ ہے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا کہ قطر میں امریکی العدید ایئر بیس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، عمان کی بندرگاہ دقم میں لاجسٹک مراکز اور آبنائے ہرمز میں ایک اور مبینہ خلاف ورزی کرنے والے بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

کشیدگی کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا تنازع ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی رہی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ مفاہمتی معاہدے کی ایک شق کے تحت اسے تجارتی جہازوں کی آمدورفت کا انتظام سنبھالنے کا اختیار حاصل ہے، جبکہ امریکا اس تشریح کو مسترد کرتا ہے اور اسے بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیتا ہے۔

رواں ہفتے ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب تین تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں امریکا نے 7 اور 8 جولائی کو مسلسل دو راتوں میں تقریباً 170 اہداف پر حملے کیے۔ اس کے ردعمل میں ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی مفادات پر حملوں کا دعویٰ کیا۔

12 جولائی کی علی الصبح امریکا نے قبرص کے پرچم بردار ایک کنٹینر جہاز پر ایرانی حملے کے جواب میں تقریباً 140 ایرانی اہداف پر فضائی کارروائی کی، جس کے بعد ایران نے خطے کے متعدد ممالک میں تازہ حملے کیے۔

ایرانی خبر رساں ادارے IRNA کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز آئندہ اطلاع تک بند رہے گی اور امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے تک کسی بھی بحری جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ تجارتی جہاز اب بھی آبنائے سے گزر رہے ہیں۔

سفارتی محاذ پر بھی کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے، تاہم امریکا ایران کے ساتھ مزید مذاکرات پر آمادہ ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کی پاسداری کی، جبکہ امریکا نے معاہدے کی خلاف ورزیاں کیں، اس لیے کسی بھی پیش رفت کے لیے دونوں جانب سے معاہدے پر عملدرآمد ضروری ہے۔

ادھر پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے میں تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔ مصر نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیا، سعودی عرب نے ایران پر علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا، جبکہ قطر نے کہا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button