
خلیج اردو
بھارت کے 15 سالہ نوجوان بیٹر ویبھو سوریہ ونشی کو انگلینڈ کے خلاف آخری ٹی ٹوئنٹی میچ سے ڈراپ کیے جانے کے فیصلے پر سابق کرکٹرز نے شدید تنقید کی ہے۔
ویبھو سوریہ ونشی نے قومی ٹیم میں منتخب ہو کر سچن ٹنڈولکر کا کم عمر ترین بھارتی کھلاڑی بننے کا ریکارڈ توڑا تھا۔ وہ بھارت کی جانب سے تمام فارمیٹس میں نمائندگی کرنے والے کم عمر ترین کھلاڑی اور ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک میں ٹی ٹوئنٹی ڈیبیو کرنے والے کم عمر ترین کرکٹر بھی ہیں۔
آئی پی ایل میں راجستھان رائلز کی نمائندگی کرتے ہوئے سوریہ ونشی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے 776 رنز اسکور کیے، ایک سنچری اور پانچ نصف سنچریاں بنائیں، ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر رہے اور ریکارڈ 72 چھکے بھی لگائے۔
تاہم انگلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں وہ توقعات پر پورا نہ اتر سکے اور ابتدائی تین میچوں میں بالترتیب 14، 13 اور 15 رنز ہی بنا سکے۔
آخری ٹی ٹوئنٹی میں سوریہ ونشی کی جگہ سنجو سیمسن کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔ بھارتی کپتان شریاس آئر نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سنجو سیمسن ماضی میں بھارت کو کئی سیریز جتوا چکے ہیں اور ٹیم انتظامیہ اوپننگ میں دائیں اور بائیں ہاتھ کے بیٹرز کا امتزاج چاہتی تھی، اسی لیے انہیں ابھیشیک شرما کے ساتھ میدان میں اتارا گیا۔
سابق بھارتی کپتان Sunil Gavaskar نے کہا کہ نوجوان بیٹر کو ایک اور موقع ملنا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق سیریز پہلے ہی بھارت کے ہاتھ سے نکل چکی تھی، اس لیے سوریہ ونشی کو ٹیم میں برقرار رکھنا بہتر فیصلہ ہوتا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کوئی سینئر کھلاڑی نوجوان بیٹر کی حوصلہ افزائی کرے گا تاکہ وہ مایوس نہ ہو۔
سابق بھارتی کرکٹر Mohammad Kaif نے ٹیم انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس سے زیادہ الجھی ہوئی بھارتی ٹیم مینجمنٹ پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ ان کے مطابق ویبھو سوریہ ونشی اور سنجو سیمسن دونوں کو اعتماد دینے کی ضرورت ہے، شکوک و شبہات میں مبتلا کرنے کی نہیں۔
دوسری جانب سابق بھارتی کرکٹر Ambati Rayudu نے بھی ٹیم انتظامیہ کی کمیونیکیشن پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سوریہ ونشی جیسے نوجوان کھلاڑی، جو آئندہ 20 سے 25 برس بھارتی کرکٹ کی خدمت کر سکتے ہیں، انہیں مثبت ماحول فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔







