متحدہ عرب امارات

آبنائے ہرمز پر اصل کنٹرول کس کا ہے؟ اہم حقائق

خلیج اردو
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل اسی اہم آبی گزرگاہ سے ہوتی ہے، تاہم قانونی طور پر کسی ایک ملک کا اس پر مکمل کنٹرول نہیں۔

آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی علاقائی سمندری حدود میں واقع ہے اور خلیج عرب کو خلیج عمان سے ملاتی ہے۔ جنوبی ساحل عمان کے زیرِ انتظام ہے، جبکہ شمالی ساحل ایران کے کنٹرول میں ہے، جہاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بھاری موجودگی رہتی ہے۔

بین الاقوامی قانون، خصوصاً اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر (UNCLOS) کے تحت بین الاقوامی جہازوں کو "بے ضرر گزر” (Innocent Passage) کا حق حاصل ہے۔ اس اصول کے مطابق ساحلی ممالک بین الاقوامی بحری آمدورفت کو بلاجواز روک نہیں سکتے اور نہ ہی صرف گزرنے پر فیس عائد کر سکتے ہیں۔

تاہم ایران 1982 کے اس کنونشن کا فریق نہیں، اس لیے تہران کا مؤقف ہے کہ وہ معاہدے کی شقوں کا پابند نہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اپنی علاقائی سلامتی، محفوظ بحری آمدورفت اور دشمنانہ یا فوجی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے وہ آبنائے ہرمز میں ضروری اقدامات کا قانونی حق رکھتا ہے۔

فروری 2026 میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کا دعویٰ کیا، جس کے باعث بحری جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی، تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، مال برداری کے اخراجات بڑھے اور عالمی سپلائی چین دباؤ کا شکار ہوئی۔

بعد ازاں ایران نے "پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی (PGSA)” قائم کر کے آبنائے سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کا اعلان کیا، جسے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین، قطر اور کویت نے مسترد کر دیا۔

امریکہ نے بھی واضح کیا کہ کسی بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر یکطرفہ ٹول یا فیس عائد نہیں کی جا سکتی، اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں بحری تحفظ کے نام پر 20 فیصد فیس عائد کرنے کی تجویز دی، جسے بعد ازاں واپس لینے کا اعلان کیا۔

جون 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا، تاہم اس معاہدے کی متعدد بار خلاف ورزی ہوئی اور دونوں جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔

حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی شپنگ انڈسٹری کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ متعدد تجارتی جہاز متاثر ہوئے، کئی بحری اہلکار ہلاک یا پھنس گئے، جبکہ ہزاروں ملاح طویل عرصے تک خلیجی پانیوں میں محصور رہے۔

صورتحال کے پیش نظر متحدہ عرب امارات نے فجیرہ اور خورفکان کی بندرگاہوں کے ذریعے متبادل تجارتی راستے فعال کیے، عمان کے ساتھ گرین کوریڈور قائم کیا اور فضائی کارگو سہولیات میں اضافہ کیا، تاکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باوجود تجارتی سرگرمیاں جاری رہ سکیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button