متحدہ عرب امارات

علاقائی کشیدگی کے باعث یو اے ای اور خلیجی ممالک میں تنخواہوں میں اضافے کی رفتار سست ہونے کا امکان

خلیج اردو
علاقائی کشیدگی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں رواں سال ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی رفتار سست رہنے یا بعض شعبوں میں معمولی کمی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بھرتیوں کے ادارے کوپر فچ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر ٹریفر مرفی کے مطابق سال کے آغاز میں تنخواہوں میں 2.5 سے 3 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی گئی تھی، تاہم موجودہ معاشی حالات، ملازمتوں کی طلب میں کمی اور امیدواروں کی زیادہ تعداد کے باعث اب یہ اندازہ حقیقت پسندانہ نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ اس سال تنخواہوں میں نمایاں اضافے کی توقع نہیں، بلکہ بعض شعبوں میں معمولی کمی بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ملازمین کے لیے صرف زیادہ تنخواہ کی خاطر ملازمت تبدیل کرنے کے مواقع بھی پہلے جیسے نہیں رہے۔

ڈاکٹر مرفی کا کہنا تھا کہ تیل، سونے اور ہیروں کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور ابتدائی عوامی حصص کی فروخت (آئی پی او) میں سست روی نے کاروباری اعتماد کو متاثر کیا ہے، جبکہ کمپنیوں نے سفری اخراجات سمیت دیگر اختیاری اخراجات پر بھی سخت نگرانی شروع کر دی ہے۔ ان کے مطابق کارکردگی سے منسلک بونس بھی دباؤ کا شکار رہ سکتے ہیں کیونکہ کئی کمپنیاں اپنے مالی اہداف حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر سکتی ہیں۔

دوسری جانب اڈیکو کے سینئر نائب صدر اور ای ایم ای اے خطے کے سربراہ میانک پٹیل نے نسبتاً مثبت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں زیادہ تر کمپنیاں تنخواہوں میں اضافے کو مکمل طور پر روک نہیں رہیں بلکہ اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے اور اہم عہدوں پر کام کرنے والے ملازمین پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔

ان کے مطابق بعض کمپنیوں نے تنخواہوں میں اضافے کی شرح ضرور کم کی ہے، تاہم کاروباری نتائج بہتر ہونے کی صورت میں سال کے دوسرے نصف میں معاوضوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

میانک پٹیل نے کہا کہ 2026 تنخواہوں کے جمود کا نہیں بلکہ معتدل اور محتاط اضافے کا سال ہوگا، کیونکہ آجر اخراجات پر قابو رکھنے کے ساتھ ساتھ باصلاحیت افرادی قوت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button