
خلیج اردو
دبئی میں اگر کوئی مالک مکان اپنی جائیداد فروخت کرنا چاہتا ہے تو وہ صرف اس بنیاد پر کرایہ دار کو چند ماہ کے نوٹس پر گھر خالی کرنے کا پابند نہیں کر سکتا۔
متحدہ عرب امارات کے قانون کے مطابق اگر مالک مکان جائیداد فروخت کرنے کی وجہ سے کرایہ دار کو بے دخل کرنا چاہتا ہے تو اسے کم از کم 12 ماہ قبل تحریری نوٹس دینا ضروری ہے۔ یہ نوٹس نوٹری پبلک یا رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔
قانون کے مطابق جائیداد فروخت کرنے کی خواہش موجودہ کرایہ داری معاہدے کو خودکار طور پر ختم نہیں کرتی۔ اگر کرایہ داری کا معاہدہ مؤثر ہے اور اس کی مدت باقی ہے تو کرایہ دار کو معاہدے کے اختتام تک رہنے کا حق حاصل ہے۔
دبئی کے کرایہ داری قوانین کے تحت اگر جائیداد کسی نئے مالک کو فروخت بھی کر دی جائے تو نیا مالک بھی موجودہ کرایہ داری معاہدے کا پابند ہوگا، بشرطیکہ معاہدہ مقررہ مدت کے لیے موجود ہو۔
ماہرین قانون کے مطابق اگر مالک مکان 12 ماہ کا قانونی نوٹس دیے بغیر صرف دو ماہ کے اندر گھر خالی کرنے کا مطالبہ کرتا ہے تو کرایہ دار اس مطالبے کو چیلنج کر سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر دبئی رینٹل ڈسپیوٹس سینٹر (RDC) سے رجوع کر سکتا ہے۔
اہم نکات:
- جائیداد فروخت کرنے کے لیے کرایہ دار کو بے دخل کرنے کا نوٹس 12 ماہ پہلے دینا لازم ہے۔
- نوٹس نوٹری پبلک یا رجسٹرڈ میل کے ذریعے ہونا چاہیے۔
- موجودہ کرایہ داری معاہدہ فروخت کے باوجود برقرار رہتا ہے۔
- نیا خریدار بھی موجودہ لیز کے حقوق کا پابند ہوتا ہے۔
- غیر قانونی بے دخلی کی صورت میں کرایہ دار رینٹل ڈسپیوٹس سینٹر سے رجوع کر سکتا ہے۔







