متحدہ عرب امارات

یو اے ای: شیزوفرینیا کے مریضوں کے لیے ہر چھ ماہ بعد لگنے والا جدید علاج متعارف

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے ایمریٹس ہیلتھ سروسز (EHS) نے شیزوفرینیا کے مریضوں کے لیے ایسا جدید طویل المدتی علاج متعارف کرا دیا ہے، جس کی صرف ہر چھ ماہ بعد ایک خوراک دینا ہوگی۔ یہ سہولت سرکاری سطح پر سب سے پہلے الامل نفسیاتی اسپتال میں فراہم کی جا رہی ہے۔

"بیانلی” (BYANNLI) نامی یہ دوا مریضوں میں علامات کو طویل عرصے تک قابو میں رکھنے، بار بار دوا لینے کی ضرورت کم کرنے، علاج میں تسلسل برقرار رکھنے اور بیماری کے دوبارہ حملے (ری لیپس) کے خطرات میں کمی لانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

ایمریٹس ہیلتھ سروسز کے کلینیکل سروسز سیکٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عصام الزرعونی نے کہا کہ اس علاج کا آغاز عالمی معیار کے مطابق جدید طبی سہولیات فراہم کرنے اور ذہنی صحت کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت مریضوں کو زیادہ مؤثر، پائیدار اور مربوط علاج فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی، جس سے ان کے معیارِ زندگی اور طویل المدتی صحت کے نتائج بہتر ہوں گے۔

شیزوفرینیا ایک دائمی ذہنی بیماری ہے جو انسان کے سوچنے، محسوس کرنے اور رویے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق علاج کا تسلسل برقرار رکھنا بیماری پر قابو پانے کے لیے نہایت ضروری ہے، تاہم مریضوں کے لیے باقاعدگی سے ادویات لینا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔

ایمریٹس ہیلتھ سروسز کے شعبۂ ذہنی صحت کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نور المہیری نے کہا کہ چھ ماہ تک مؤثر رہنے والا یہ علاج مریضوں کو علاج جاری رکھنے، بیماری کے دوبارہ حملے کے خطرات کم کرنے اور نفسیاتی و سماجی استحکام حاصل کرنے میں مدد دے گا۔

ایمریٹس ہیلتھ سروسز کے مطابق الامل نفسیاتی اسپتال میں طویل المدتی ادویات کے استعمال سے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ اسپتال میں مریضوں کے دوبارہ داخل ہونے کی شرح ایک فیصد سے بھی کم رہی، علاج پر عمل درآمد کی شرح 93 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ 93 فیصد مریضوں میں ذہنی علامات میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

حکام کے مطابق یہ اقدام یو اے ای نیشنل اسٹریٹجی فار ویلبیئنگ 2031 اور سالِ خاندان کے اہداف سے بھی ہم آہنگ ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button