متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کا واحد سال بھر بہنے والا قدرتی آبشار عوام کے لیے کھول دیا گیا

خلیج اردو
فجیرہ: متحدہ عرب امارات کے مشرقی علاقے فجیرہ کے حجر پہاڑوں میں واقع مشہور وادی وریاہ (Wadi Wurayah)، جو ملک کا واحد سال بھر بہنے والا قدرتی آبشار رکھتی ہے، جنوری 2026 سے محدود پیمانے پر عوام کے لیے کھول دی گئی ہے۔

فجیرہ ماحولیاتی اتھارٹی کے مطابق وادی وریاہ کو حال ہی میں یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے بعد عوام کو منظم اور نگرانی میں ہونے والے دوروں کے ذریعے اس منفرد قدرتی مقام کی سیر کی اجازت دی گئی ہے تاکہ ماحول اور جنگلی حیات کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

اتھارٹی کی ڈائریکٹر جنرل، عسیلہ عبداللہ المعلا نے بتایا کہ مقامی اور غیر ملکی سیاح مخصوص ٹور آپریٹر کے ذریعے رجسٹریشن کرا کے وادی کا دورہ کر سکتے ہیں۔ یہ دورے محدود تعداد میں افراد کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ قدرتی نظام محفوظ رہے۔

وادی وریاہ کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا 13 میٹر بلند قدرتی آبشار ہے، جو شدید گرمیوں میں بھی خشک نہیں ہوتا۔ ماہرین کے مطابق یہ آبشار ممکنہ طور پر گزشتہ 10 ہزار سال سے مسلسل بہہ رہا ہے۔ یہاں 60 سے زائد چشمے اور تقریباً 6 کلومیٹر طویل آبی گزرگاہ موجود ہے جو اس آبشار کو پانی فراہم کرتی ہے۔

یہ علاقہ اپنی حیاتیاتی تنوع کے باعث بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ وادی میں اب تک 1,099 مختلف انواع ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جن میں 216 اقسام کے پودے، 114 اقسام کے پرندے، 20 اقسام کے ممالیہ جانور اور 30 اقسام کے رینگنے والے جانور اور امفیبین شامل ہیں۔

وادی وریاہ نایاب جانوروں جیسے عربین طہر، بلینفورڈ لومڑی اور کاراکل کا مسکن بھی ہے۔ یہاں ایک نایاب جنگلی آرکڈ بھی پائی جاتی ہے جسے متحدہ عرب امارات میں اپنی نوعیت کا واحد پودا قرار دیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ ماحولیاتی تحفظ کے پیش نظر وادی وریاہ کو 2013 میں عام سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ اس دوران صرف سائنس دانوں، محققین اور طلبہ کو تحقیق کے لیے داخلے کی اجازت تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے علاقے کے قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کی بحالی میں نمایاں مدد ملی۔

وادی وریاہ فجیرہ شہر سے تقریباً 45 کلومیٹر دور واقع ہے اور تقریباً 220 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثے کا درجہ ملنے کے بعد اسے متحدہ عرب امارات کے اہم ترین قدرتی مقامات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button