متحدہ عرب امارات

انسٹاگرام پر بچوں کی تصاویر کا اچانک سیلاب، GCC کا نیا وائرل ٹرینڈ کیا ہے؟

خلیج اردو
گزشتہ چند دنوں کے دوران انسٹاگرام پر خلیجی ممالک کے بڑے برانڈز کے اکاؤنٹس پر بچوں کی بنائی ہوئی نظر آنے والی تصاویر نے صارفین کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ ٹیڑھی میڑھی سیلفیز، انگلی سے کیمرہ ڈھکی ہوئی تصاویر، دھندلی تصویریں اور بے ترتیب کلوز اپس نے سوشل میڈیا صارفین کو حیران کردیا کہ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے؟

اس وائرل ٹرینڈ کا آغاز مبینہ طور پر سعودی عبایا برانڈ Sahaba Abaya سے ہوا جہاں مالک کے بچے کی بنائی ہوئی ایک تصویر غلطی سے برانڈ کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوسٹ ہوگئی۔ تصویر کے ساتھ غیر واضح کیپشن بھی موجود تھا لیکن برانڈ نے پوسٹ ڈیلیٹ کرنے کے بجائے اسے برقرار رکھا اور صارفین نے اسے پسند کیا۔

کمنٹس میں بھی لوگوں نے مذاق کو آگے بڑھایا۔ کچھ صارفین نے لکھا کہ ’’امی کو فون واپس دو‘‘ جبکہ بعض نے بچے سے ہی ڈسکاؤنٹ مانگنا شروع کردیا۔

اس کے بعد سعودی عرب کے دیگر برانڈز نے بھی جان بوجھ کر اسی انداز میں بچوں جیسی تصاویر پوسٹ کرنا شروع کردیں اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ٹرینڈ پورے GCC میں پھیل گیا۔

Uber UAE، Visit Abu Dhabi، du اور متحدہ عرب امارات کی وزارت توانائی و انفراسٹرکچر سمیت کئی اداروں اور تخلیقی ایجنسیوں نے بھی اس انداز کو اپنایا۔

اس ٹرینڈ کی مقبولیت کی بڑی وجہ اس کا غیر رسمی اور حقیقی محسوس ہونا ہے۔ برسوں سے برانڈز پروفیشنل فوٹوگرافی اور انتہائی تیار شدہ اشتہاری مہمات پر توجہ دیتے رہے ہیں لیکن اب خاص طور پر نوجوان صارفین ایسا مواد زیادہ پسند کرتے ہیں جو غیر رسمی، اچانک اور سوشل میڈیا کے قدرتی انداز کا محسوس ہو۔

کئی برانڈز نے بچوں کی زبان اور انداز میں مزاحیہ کیپشنز کے ذریعے اپنی مصنوعات اور مہمات کو بھی پروموٹ کیا، جس سے اشتہار روایتی مارکیٹنگ کے بجائے تفریحی مواد دکھائی دیتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام تصاویر حقیقی بچوں کی نہیں۔ کچھ برانڈز نے بچوں جیسا انداز پیدا کرنے کے لیے اے آئی سے تیار کردہ تصاویر بھی استعمال کیں جبکہ بعض نے حقیقی تصاویر شیئر کیں۔

یہ ٹرینڈ ظاہر کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اب غیر معمولی، سادہ اور نامکمل نظر آنے والا مواد بھی انتہائی مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button