متحدہ عرب امارات

دبئی کا انسان دوست مرکز جہاں پھنسے تارکین وطن کی وطن واپسی میں مدد کی جاتی ہے

خلیج اردو

دبئی بہت سے لوگوں کے لیے مواقع کا شہر ہے لیکن بعض افراد کے لیے بہتر مستقبل کی تلاش کا سفر اچانک مشکلات کا شکار ہوجاتا ہے۔ ملازمت ختم ہونے، جعلی بھرتی ایجنسیوں کا شکار بننے، سفری دستاویزات گم ہونے یا دیگر انسانی مسائل کے باعث کئی افراد متحدہ عرب امارات سے واپس اپنے ملک نہیں جاسکتے۔

ایسے افراد کی مدد کے لیے دبئی کے علاقے العویر میں قائم سنٹر فار ہاربرنگ انہیں عارضی رہائش، طبی سہولیات اور قانونی معاونت فراہم کرتا ہے جبکہ متعلقہ حکام ان کے معاملات حل کرکے وطن واپسی کے انتظامات مکمل کرتے ہیں۔

یہ مرکز روایتی امیگریشن سہولت سے مختلف ہے جہاں ایک ہی چھت تلے طبی معائنہ، رہائش، قانونی کارروائی، سفری دستاویزات اور وطن واپسی کے لیے سفر کا انتظام کیا جاتا ہے۔

آمد سے روانگی تک مکمل سہولت

مرکز پہنچنے والے ہر فرد کے لیے ایک منظم طریقہ کار موجود ہے۔ سب سے پہلے طبی کلینک میں ابتدائی طبی معائنہ کیا جاتا ہے جبکہ مزید علاج کی ضرورت رکھنے والے افراد کو ماہر ڈاکٹرز سے مشاورت کے لیے بھیجا جاتا ہے۔

اس کے بعد انہیں نہانے، صاف کپڑے اور ذاتی نگہداشت کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور پھر رہائشی حصے میں منتقل کیا جاتا ہے۔

پاسپورٹ، موبائل فون، نقد رقم اور دیگر قیمتی اشیا کو باقاعدہ ریکارڈ کے ساتھ محفوظ لاکرز میں رکھا جاتا ہے۔ ضرورت کے وقت رہائشی اپنے موبائل فون استعمال کرسکتے ہیں جبکہ خاندان اور سفارت خانوں سے رابطے کے لیے لینڈ لائن فون کی سہولت بھی موجود ہے۔

حکام کے مطابق اس عمل کا مقصد صرف فوری ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ مشکل حالات سے گزرنے والے افراد کو تحفظ اور ذہنی سکون کا احساس فراہم کرنا بھی ہے۔

ایک ہی چھت تلے 9 اہم خدمات

سنٹر فار ہاربرنگ میں رہائش اور کھانے، طبی سہولیات، سماجی و انسانی امداد، ذاتی نگہداشت، سیکیورٹی، ذاتی سامان کی محفوظ تحویل، آگاہی اور تفریحی پروگرامز سمیت 9 مربوط خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

مرکز کی خصوصی ٹیمیں ہر فرد کے کیس کو الگ سے دیکھتی ہیں اور سفارت خانوں اور قونصل خانوں کے ساتھ رابطے کے ذریعے ہنگامی سفری دستاویزات، قانونی کارروائی اور روانگی کے اجازت نامے حاصل کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ ایئر لائن ٹکٹ، ایئرپورٹ تک ٹرانسپورٹ اور کئی معاملات میں بورڈنگ پاس کے انتظامات بھی مرکز ہی سے مکمل کیے جاتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تمام خدمات ایک ہی جگہ فراہم کرنے سے کیسز حل کرنے میں لگنے والا وقت کم ہوتا ہے اور افراد کو قیام کے دوران مکمل انسانی اور عملی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

انسانی ہمدردی کو ترجیح

دبئی میں جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریزیڈنسی اینڈ فارنرز افیئرز کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل محمد احمد المری نے کہا کہ سنٹر فار ہاربرنگ متحدہ عرب امارات کی برداشت، یکجہتی اور انسانی وقار کے احترام کی اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔

ان کے مطابق دبئی کی سیکیورٹی، تحفظ اور استحکام صرف شہریوں اور رہائشیوں تک محدود نہیں بلکہ ان افراد کے لیے بھی ہے جو غیر معمولی حالات کے باعث اپنے وطن واپس جانے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔

جی ڈی آر ایف اے دبئی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل ڈاکٹر علی بن عجیف الزعابی کے مطابق خصوصی ٹیمیں ہر فرد کے کیس کو آمد سے روانگی تک فالو کرتی ہیں تاکہ طبی سہولیات، قانونی کارروائی، سفری دستاویزات اور پرواز کے انتظامات بروقت مکمل کیے جاسکیں۔

2026 کی پہلی ششماہی میں تقریباً 12 ہزار افراد کی مدد

سنٹر فار ہاربرنگ کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران 11 ہزار 696 ایسے افراد کی مدد کی گئی جو اپنی روانگی کے طریقہ کار کو مکمل نہیں کر پا رہے تھے۔

اس عرصے میں مرکز نے 3 لاکھ 22 ہزار 232 کھانے فراہم کیے جبکہ 11 ہزار 696 ابتدائی طبی معائنے کیے گئے اور 1 ہزار 906 ماہر طبی مشاورتیں بھی کروائی گئیں۔

سفارت خانوں اور قونصل خانوں کے ذریعے 4 ہزار 568 سفری دستاویزات کے اجرا میں مدد کی گئی جبکہ 11 ہزار 696 ایئر لائن ٹکٹس کا بھی انتظام کیا گیا۔

حکام کے مطابق ہر اعداد و شمار کے پیچھے ایک ایسا فرد موجود ہے جس کی وطن واپسی صرف ٹکٹ خریدنے سے ممکن نہیں تھی بلکہ اسے قانونی، طبی اور انسانی مدد کی ضرورت تھی۔

حالیہ کیسز میں ایک افریقی خاتون بھی شامل تھیں جو ملازمت کی تلاش میں سیاحتی ویزے پر متحدہ عرب امارات آئی تھیں۔ ملازمت نہ ملنے کے بعد انہیں اپنی بیٹی کے ساتھ رہائش کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا جبکہ بیٹی کو طبی علاج کی بھی ضرورت تھی۔ مرکز نے انہیں رہائش، طبی سہولیات اور ضروری معاونت فراہم کی اور وطن واپسی کے انتظامات مکمل کرنے میں مدد کی۔

صرف امیگریشن مرکز نہیں

سنٹر فار ہاربرنگ میں طبی عملہ مریضوں کے معائنے میں مصروف رہتا ہے، کیس افسران سفارت خانوں سے رابطے کرتے ہیں جبکہ دیگر ٹیمیں رہائشیوں کے لیے کھانے، رہائش اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بناتی ہیں۔

مرکز کا مقصد صرف امیگریشن کارروائی مکمل کرنا نہیں بلکہ انتظامی کارکردگی کے ساتھ انسانی ہمدردی کو جوڑتے ہوئے ایسے افراد کو عزت اور وقار کے ساتھ ان کے وطن واپس پہنچانا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button