
خلیج اردو
اوپیک پلس کے سات اہم رکن ممالک نے ستمبر 2026 سے تیل کی پیداوار میں یومیہ 1 لاکھ 88 ہزار بیرل اضافے پر اتفاق کرلیا۔
سعودی عرب، روس، عراق، کویت، الجزائر، قازقستان اور عمان کے نمائندوں نے اتوار کو آن لائن اجلاس میں عالمی تیل مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لیا اور پیداوار میں اضافے کی منظوری دی۔
اوپیک کے مطابق ستمبر کا اضافہ 2023 میں کیے گئے رضاکارانہ پیداواری کٹوتیوں کے ایک مرحلے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی جانب آخری قدم ہے۔ اوپیک پلس نے 2023 میں مجموعی طور پر تقریباً 16 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ کی اضافی کٹوتی کا فیصلہ کیا تھا جسے اب مرحلہ وار واپس لیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ کے باعث پیداوار میں اضافے کا فوری طور پر عالمی مارکیٹ پر نمایاں اثر پڑنے کا امکان کم ہے۔
رائسٹڈ انرجی کے تجزیہ کار جارج لیون کے مطابق اوپیک پلس نے رضاکارانہ کٹوتیوں کو ختم کرنے کا عمل مکمل کرلیا ہے اور اب اگلا چیلنج برآمدی راستے معمول پر آنے کے بعد پیدا ہونے والے اضافی تیل کو مارکیٹ میں منظم کرنا ہوگا۔
روس میں یوکرینی ڈرون حملوں کے باعث تیل کی تنصیبات بھی متاثر ہوئی ہیں جبکہ عراق سمیت بعض رکن ممالک مستقبل میں اپنی پیداوار کے کوٹے میں مزید اضافے کے خواہاں ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اوپیک پلس ستمبر کے اضافے کے بعد رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں پیداوار میں مزید اضافے کو روکنے پر غور کرسکتا ہے۔ گروپ کا اگلا اہم اجلاس 6 ستمبر کو متوقع ہے۔






