
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں پیپٹائڈز کے بڑھتے ہوئے رجحان کے درمیان ڈاکٹروں نے سوشل میڈیا اور غیر مصدقہ آن لائن ذرائع سے پیپٹائڈ انجیکشن خرید کر خود استعمال کرنے سے خبردار کردیا۔
امارات ڈرگ اسٹیبلشمنٹ کی حالیہ کارروائی میں 71 اداروں کو غیر منظور شدہ پیپٹائڈ مصنوعات کی تشہیر یا فروخت کرتے ہوئے پایا گیا جبکہ 14 سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا۔
ڈاکٹروں کے مطابق سب سے بڑا خطرہ صرف جعلی یا غیر معیاری مصنوعات نہیں بلکہ بغیر طبی معائنے اور نگرانی کے طاقتور مواد کا استعمال ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے افراد سوشل میڈیا، آن لائن فروخت کنندگان یا دوستوں کی سفارش پر پیپٹائڈز استعمال کر رہے ہیں اور انہیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ یہ علاج ان کے لیے موزوں بھی ہے یا نہیں۔
میٹابولک کے میڈیکل ڈائریکٹر اور ذیابیطس کے ماہر ڈاکٹر یوسف سعید کے مطابق کئی مریض بغیر بنیادی خون کے ٹیسٹ اور طبی نگرانی کے پیپٹائڈز استعمال کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں جگر، خون میں شوگر اور ہارمونز پر ممکنہ اثرات کا بروقت اندازہ نہیں ہو پاتا۔
ڈاکٹرز کے مطابق بعض افراد وزن کم کرنے، توانائی بڑھانے، پٹھے بنانے، چوٹ سے جلد صحت یاب ہونے یا عمر کے اثرات کم کرنے کے لیے پیپٹائڈز استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا نے پیپٹائڈز کو فوری اور کم خطرے والا حل بنا کر پیش کیا ہے جبکہ ہر پیپٹائڈ طبی طور پر ثابت شدہ یا منظور شدہ علاج نہیں۔
اینڈوکرائنولوجسٹ ڈاکٹر اسماعیل ارسلان نے کہا کہ پیپٹائڈ تھراپی شروع کرنے سے پہلے مکمل طبی جائزہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق جگر اور گردوں کے افعال، تھائرائیڈ، خون کے مکمل ٹیسٹ اور فاسٹنگ بلڈ شوگر سمیت دیگر ٹیسٹ مریض کی صورتحال کے مطابق ضروری ہوسکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ بغیر نگرانی کے پیپٹائڈز کے استعمال سے جسم میں پانی جمع ہونے، شوگر برداشت کرنے کی صلاحیت متاثر ہونے اور بلڈ پریشر میں تبدیلی جیسے مضر اثرات سامنے آسکتے ہیں۔ غیر منظم ذرائع سے حاصل کی جانے والی مصنوعات جعلی، آلودہ، غلط مقدار پر مشتمل یا نامناسب طریقے سے محفوظ کی گئی ہوسکتی ہیں۔
ماہر نفسیات ہبہ بدوی کے مطابق سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر لوگوں کا اعتماد طبی وجوہات کے بجائے نفسیاتی عوامل سے بھی جڑا ہوا ہے۔ انفلوئنسرز روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں اور ان کی باتیں لوگوں کو ڈاکٹر کی نسبت زیادہ مانوس محسوس ہوسکتی ہیں۔
ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ بغیر نسخے کے فروخت ہونے والی مصنوعات، غیر معمولی طور پر کم قیمت، صرف سوشل میڈیا کے ذریعے کام کرنے والے فروخت کنندگان، لائسنس یافتہ فارمیسی کی عدم موجودگی اور مشکوک پیکیجنگ سے محتاط رہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق پیپٹائڈ تھراپی کے بارے میں اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ پیپٹائڈ ہے یا نہیں بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ آیا یہ صحیح مریض کے لیے درست علاج ہے، سائنسی شواہد پر مبنی ہے، باقاعدہ ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے اور مناسب طبی نگرانی میں استعمال ہورہا ہے یا نہیں۔






