متحدہ عرب امارات

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران یو اے ای نے کھیلوں کی غیر قانونی نشریات کرنے والی 14 ہزار سے زائد ویب سائٹس اور ایپس بلاک کر دیں

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ معیشت و سیاحت نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران کھیلوں کی غیر قانونی نشریات کرنے والی 14 ہزار 122 ویب سائٹس اور ایپس بلاک کر دیں۔ یہ کارروائی وزارت کے "انسٹا بلاک (InstaBlock)” مرکز کے ذریعے ڈیجیٹل پائریسی کے خلاف مہم کے تحت کی گئی۔

وزارت کے مطابق بلاک کی گئی سائٹس میں 9 ہزار 595 ڈومینز اور 4 ہزار 527 آئی پی ایڈریسز شامل ہیں۔ یہ کارروائیاں متعلقہ حکام اور مقامی اقتصادی اداروں کے تعاون سے براڈکاسٹنگ حقوق کی خلاف ورزی کی شکایات پر فوری ردعمل کے نظام کے ذریعے کی گئیں۔

ورلڈ کپ کے دوران وزارت نے مقامی اقتصادی محکموں کے ساتھ مل کر 370 سے زائد کیفے اور ریستورانوں کا معائنہ بھی کیا، جس میں 287 ایسے کاروباری اداروں کی نشاندہی ہوئی جو لائسنس یافتہ نشریاتی ذرائع استعمال نہیں کر رہے تھے۔

وزارت کے مطابق فروری 2025 میں انسٹا بلاک کے قیام کے بعد سے اب تک کھیلوں کی نشریاتی قوانین کی خلاف ورزی پر 68 ہزار 401 ویب سائٹس اور ایپس بلاک کی جا چکی ہیں۔ سال 2023 میں 1,132، 2024 میں 4,557 جبکہ 2025 میں 21 ہزار ویب سائٹس اور ایپس بلاک کی گئی تھیں، جو نفاذی کارروائیوں میں مسلسل اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

وزارت کے اسسٹنٹ انڈر سیکریٹری برائے دانشورانہ املاک ڈاکٹر عبدالرحمن حسن المعینی نے کہا کہ انسٹا بلاک مرکز جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈیجیٹل خلاف ورزیوں کے خلاف فوری کارروائی کو ممکن بنا رہا ہے۔ ان کے مطابق حقوقِ نشریات کا تحفظ، خصوصاً ورلڈ کپ جیسے عالمی مقابلوں کے دوران، تخلیقی اور کھیلوں کے مواد کی معیشت کے فروغ کے لیے انتہائی اہم ہے۔

وزارت نے بتایا کہ جب حقوق رکھنے والے ادارے کسی خلاف ورزی کی شکایت درج کراتے ہیں تو معاملہ ٹیلی کمیونیکیشنز اینڈ ڈیجیٹل گورنمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (TDRA) کو بھیجا جاتا ہے، جہاں خلاف ورزی کرنے والی ویب سائٹ یا ایپ کی شناخت اور اسے بلاک کرنے کا عمل عموماً 10 سے 15 منٹ میں مکمل کر لیا جاتا ہے۔

انسٹا بلاک مرکز TDRA، LaLiga اور Eurostar Multimedia کے تعاون سے کام کر رہا ہے، جس کا مقصد غیر قانونی نشریات کی روک تھام، حقوق رکھنے والے اداروں کے مفادات کا تحفظ اور کھیلوں و تخلیقی صنعت میں سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button