
خلیج اردو
برطانیہ میں ہنرمند غیر ملکی کارکنوں کے ویزوں کے قوانین سخت کیے جانے کے باوجود ہزاروں چھوٹے کاروبار اب بھی غیر ملکی ملازمین کو اسپانسر کرنے کے مجاز ہیں۔ بی بی سی ویریفائی کی تحقیق کے مطابق ملک بھر میں 1,900 سے زائد منی مارٹس، ویپ شاپس، کار واشز، باربر شاپس اور ٹیکسی آپریٹرز کے پاس اب بھی اسپانسرشپ لائسنس موجود ہے۔
جولائی 2025 میں حکومت نے اسکلڈ ورکر ویزا کے قوانین سخت کرتے ہوئے زیادہ تر ملازمتوں کے لیے ڈگری کے مساوی مہارت اور کم از کم 41 ہزار 700 پاؤنڈ سالانہ تنخواہ کی شرط عائد کر دی تھی۔ اس کے نتیجے میں دکانوں کے منیجر، سیلز اسسٹنٹس اور کئی دیگر غیر گریجویٹ پیشے نئی درخواستوں کے لیے نااہل قرار دے دیے گئے۔
اس کے باوجود بی بی سی ویریفائی کے مطابق 1,500 سے زائد گروسری اور کنوینینس اسٹورز، تقریباً 150 ٹیکسی کمپنیاں، 100 باربر شاپس اور درجنوں کار واشز اور ویپ شاپس اب بھی اسپانسرشپ رجسٹر پر موجود ہیں۔ ان میں سے 100 سے زیادہ کاروبار قوانین سخت ہونے کے بعد بھی رجسٹر میں شامل کیے گئے، تاہم رجسٹر میں شامل ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ ہر ویزا درخواست منظور ہو گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ بعض کاروباروں نے قوانین نافذ ہونے سے پہلے درخواست دی تھی، جبکہ کچھ ادارے اس لیے رجسٹر پر موجود ہیں کیونکہ وہ پہلے سے برطانیہ میں موجود ملازمین کی اسپانسرشپ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
برطانوی حکومت کے مطابق ملک میں اس وقت ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ کاروبار اسکلڈ ورکر اسپانسرشپ لائسنس رکھتے ہیں۔ گزشتہ 12 ماہ کے دوران مارچ تک 68 ہزار 67 اسکلڈ ورکر ویزے جاری کیے گئے، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 30 فیصد کم ہیں۔ سب سے زیادہ ویزے آئی ٹی اور فنانس کے شعبوں میں کام کرنے والوں کو ملے۔
ہوم آفس نے بتایا کہ 2025 کے دوران 3 ہزار 299 اسپانسرشپ لائسنس منسوخ کیے گئے، جبکہ 2023 میں یہ تعداد صرف 347 تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جو کاروبار قوانین کا غلط استعمال کریں گے یا غیر قانونی کارکن رکھیں گے، ان کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے مائیگریشن آبزرویٹری کی ڈائریکٹر ڈاکٹر میڈلین سمپشن نے کہا کہ جو ادارے قانون میں تبدیلی سے پہلے رجسٹرڈ تھے وہ پہلے سے اسپانسر کیے گئے ملازمین کو برقرار رکھ سکتے ہیں، لیکن اب انہی غیر اہل ملازمتوں کے لیے نئے غیر ملکی کارکن نہیں لا سکتے۔
امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض کاروبار اسپانسرشپ حاصل کرنے کے لیے ملازمتوں کی نوعیت بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم ہوم آفس اب درخواست گزار کمپنیوں کی مالی حیثیت اور پیش کردہ ملازمت کی حقیقی ضرورت کا بھی تفصیلی جائزہ لیتا ہے۔







