خلیجی خبریں

ایران کی جنگی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی، جوابی کارروائی سے جارحانہ آپریشنز کی طرف جانے کا عندیہ

خلیج اردو
امریکا کے ساتھ جنگ کے چھ ماہ مکمل ہونے کے بعد ایران کی فوج نے اپنی جنگی حکمت عملی میں تبدیلی کے اشارے دینا شروع کردیئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی ہوسکتی ہے کہ تہران سمجھتا ہے اس کے پاس اپنے مطالبات منوانے اور موجودہ تعطل کو توڑنے کے لیے دباؤ بڑھانے کا مؤثر ذریعہ موجود ہے۔

28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے جنگ شروع ہونے کے بعد ایران زیادہ تر امریکا اسرائیل اور خلیجی ممالک کے خلاف اپنی کارروائیوں کو اسلامی جمہوریہ پر ہونے والے حملوں کا بدلہ قرار دیتا رہا ہے۔

اب ایرانی حکام کھل کر جارحانہ کارروائیوں کو زیادہ ترجیح دینے کی بات کررہے ہیں جبکہ تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے کو بھی اہم سمجھا جارہا ہے۔

آبنائے ہرمز ایران کے لیے امریکا پر دباؤ ڈالنے کا اہم ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے عالمی توانائی کی اہم گزرگاہ متاثر ہوئی ہے اور توانائی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے رواں ماہ کے آغاز میں اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی تبدیلی کے دوران نئی حکمت عملی کے خدوخال بیان کرتے ہوئے دشمن کے خلاف زیادہ سے زیادہ دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے اور بڑے پیمانے پر جارحانہ کارروائیوں کی تیاری پر زور دیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button