خلیجی خبریں

ٹرمپ کا ایران کے خلاف ’اقتصادی جنگ‘ کا اعلان، ایران کی حمایت کرنے والے ممالک کو سنگین نتائج کی دھمکی

خلیج اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئی اقتصادی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے اسے کسی بھی ملک کے خلاف کی جانے والی ’’سب سے زیادہ تباہ کن‘‘ کارروائی قرار دیا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق ایران کے خلاف غیر معمولی پیمانے پر اقتصادی جنگ اور تنہائی کی پالیسی اختیار کی جائے گی جبکہ ایران کی حمایت کرنے والے ممالک کو بھی سنگین اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ جو بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں کاروباری اداروں ایئرپورٹس یا سرکاری اداروں کے ذریعے ایران کو کسی بھی قسم کا سہارا دے گا اسے بھی ’’بہت بڑے اقتصادی نتائج‘‘ کا سامنا کرنا ہوگا۔

امریکی صدر نے اس اقدام کو ’’اکنامک ڈی ڈے‘‘ قرار دیتے ہوئے اتحادی ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکا کے ساتھ کھڑے ہوں اور ایران کو الگ تھلگ کرنے میں تعاون کریں۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ معاہدے کا موقع ضائع کیا ہے اور ایرانی بحریہ فضائیہ اور فوجی کارخانے تباہ ہوچکے ہیں جبکہ ایرانی کرنسی بے وقعت ہوچکی ہے۔

دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ عبوری مفاہمتی معاہدے کی مدت 17 اگست کو ختم ہوگئی اور اس میں توسیع کے کوئی آثار سامنے نہیں آئے۔

ایرانی عہدیدار نے بھی خبردار کیا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں تہران آبنائے ہرمز اور خطے میں کشیدگی بڑھا سکتا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے بھی صورتحال غیر واضح ہے۔ ٹرمپ نے 18 اگست کو کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان نہ تو مذاکرات ہورہے ہیں اور نہ ہی کوئی مذاکرات طے ہیں۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی بدستور مکمل طور پر نافذ ہے جبکہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور تمام بحری بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں یا انہیں ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button