خلیجی خبریں

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کیا ہے اور امریکہ۔ایران جنگ میں اس کا حوالہ کیوں دیا جا رہا ہے؟

خلیج اردو
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے 11 مارچ 2026 کو قرارداد 2817 منظور کی، جس میں ایران سے خلیجی ممالک پر حملے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اس قرارداد کے بعد متعدد ممالک نے ایران کے حملوں کو قرارداد 2817 کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور اس کا حوالہ دینا شروع کر دیا۔

اقوامِ متحدہ کی قرارداد کیا ہوتی ہے؟

اقوامِ متحدہ کی قراردادیں تنظیم کے مختلف اداروں کی جانب سے جاری کیے جانے والے باضابطہ فیصلے یا مؤقف ہوتے ہیں۔

سلامتی کونسل عالمی امن اور سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کی ذمہ دار ہے اور وہ قراردادوں کے ذریعے مختلف معاملات پر فیصلے کرتی ہے۔

سلامتی کونسل 15 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین مستقل ارکان ہیں، جبکہ 10 غیر مستقل ارکان کا انتخاب دو سال کے لیے کیا جاتا ہے۔

کسی بھی قرارداد کی منظوری کے لیے کم از کم 9 ووٹ درکار ہوتے ہیں، تاہم اگر مستقل ارکان میں سے کوئی ایک بھی ویٹو کر دے تو قرارداد منظور نہیں ہو سکتی۔

قرارداد 2817 میں کیا کہا گیا؟

قرارداد میں بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

قرارداد میں ایران کے شہری آبادی، رہائشی علاقوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی مذمت کی گئی اور ان حملوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اس کے علاوہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے اور تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی بھی مذمت کی گئی۔

قرارداد میں واضح کیا گیا کہ تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کا احترام کیا جانا چاہیے اور ممالک کو اپنے بحری جہازوں کے دفاع کا حق حاصل ہے۔

قرارداد کے حق میں کس نے ووٹ دیا؟

یہ قرارداد بحرین نے خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک اور اردن کی جانب سے پیش کی تھی۔

13 ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ روس اور چین نے ووٹنگ میں حصہ لینے کے بجائے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا۔

قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، پاکستان، بحرین، ڈنمارک، یونان، پاناما، صومالیہ اور دیگر ممالک شامل تھے۔

روس اور چین نے مخالفت کیوں کی؟

روس اور چین کا مؤقف تھا کہ قرارداد یک طرفہ ہے اور اس میں تنازع کے تمام پہلوؤں کو شامل نہیں کیا گیا۔

چین نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے بھی سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر حملے کیے تھے، جبکہ روس نے مؤقف اختیار کیا کہ قرارداد جنگ کے آغاز کے اسباب کو نظر انداز کرتی ہے۔

کیا ایران اس قرارداد پر عمل کرنے کا پابند ہے؟

اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 25 کے مطابق تمام رکن ممالک سلامتی کونسل کے فیصلوں پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔

ایران 1945 سے اقوامِ متحدہ کا رکن ہے اور تنظیم کے بانی ارکان میں شامل ہے، اس لیے وہ بھی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کا پابند ہے۔

ایران پر قرارداد کی خلاف ورزی کے الزامات کیوں لگائے جا رہے ہیں؟

رپورٹس کے مطابق قرارداد کی منظوری کے بعد بھی ایران نے خلیجی خطے میں حملے جاری رکھے۔

کویت میں حملوں کے نتیجے میں ہوائی اڈے، بجلی گھروں اور پانی صاف کرنے کے مراکز کو نقصان پہنچا، جبکہ بحرین میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

متحدہ عرب امارات میں بھی ٹیلی کمیونی کیشن اور توانائی کے بعض مراکز پر حملوں کی اطلاعات دی گئیں، جنہیں بعض ممالک نے قرارداد 2817 کی خلاف ورزی قرار دیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button