
خلیج اردو
ایرانی ایوی ایشن کو مزید محدود کرنے کے لیے امریکا کی جانب سے عائد نئی پابندیوں کا آج سے اطلاق ہو رہا ہے۔ واشنگٹن نے ایرانی ایئرلائنز کو "بند کرنے” اور ان کے ساتھ کاروبار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نئی پابندیوں کے باعث ایران سے عراق اور عمان کے دارالحکومتوں کے لیے پروازیں بدھ سے معطل ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم دیگر بین الاقوامی پروازیں معمول کے مطابق جاری رہنے کی توقع ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی سول ایوی ایشن کے ترجمان نے بتایا کہ بدھ سے بغداد اور مسقط کے ہوائی اڈے ایرانی پروازیں قبول نہیں کریں گے۔
تسنیم کے مطابق استنبول سمیت دیگر بین الاقوامی پروازیں شیڈول کے مطابق معمول پر رہیں گی۔ ایرانی حکام بغداد جانے والی پروازوں کو نجف منتقل کرنے کے لیے بھی بات چیت کر رہے ہیں، جو ایرانی زائرین کے لیے ایک اہم مقام ہے۔
ایرانی قومی ایئرلائن ایران ایئر نے کہا ہے کہ اسے ترکی، آذربائیجان یا عراق کی سول ایوی ایشن اتھارٹیز کی جانب سے کسی پابندی یا باضابطہ ہدایت سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب جارجیا نے پیر کو ایرانی ایئرلائنز پر پابندی عائد کردی، جبکہ نجی ایرانی ایئرلائن ماہان نے کہا کہ اس نے اپنی حکومت کی درخواست پر ترکی کے لیے پروازیں معطل کردی ہیں۔
عراق کی حکومت نے تاحال پابندی پر باضابطہ اعلان نہیں کیا، تاہم اے ایف پی کے مطابق متعدد ذرائع، جن میں ایک اعلیٰ عراقی حکومتی عہدیدار بھی شامل ہے، نے تصدیق کی ہے کہ بغداد امریکی اقدامات پر عمل کرے گا۔
امریکی محکمہ خزانہ کے سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کو نئی پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ امریکی اقدامات کا مقصد ایرانی ایوی ایشن سیکٹر پر مزید معاشی دباؤ ڈالنا ہے، تاہم پابندیوں کے مکمل اثرات ابھی واضح نہیں ہیں کیونکہ ایرانی فضائی شعبہ پہلے ہی کئی برس سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے ہیں۔







