متحدہ عرب امارات

ایران جنگ سے اسرائیل کی امداد تک، امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج خلیج پر کیسے اثر انداز ہوسکتے ہیں؟

خلیج اردو
امریکا میں منگل 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں لاکھوں شہری ووٹ ڈال رہے ہیں۔ انتخابات کے نتائج سے فیصلہ ہوگا کہ کانگریس میں کس جماعت کو اکثریت حاصل ہوگی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ دو برس کے دوران اپنے سیاسی ایجنڈے پر کس حد تک عمل درآمد کروا سکیں گے۔

اگرچہ ان انتخابات میں صدر کا انتخاب نہیں ہورہا، تاہم کانگریس کا کنٹرول داؤ پر لگا ہوا ہے۔ نتائج طے کریں گے کہ ٹرمپ کو اپنے اقدامات کے لیے قانون سازوں کی حمایت حاصل رہے گی یا انہیں سیاسی مخالفین کی جانب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انتخابات کے اثرات امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک بھی نتائج پر نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ کانگریس میں تبدیلی واشنگٹن کی علاقائی خارجہ پالیسی، خصوصاً ایران اور اسرائیل سے متعلق پالیسی پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

امریکی وسط مدتی انتخابات کیا ہیں؟

امریکا میں ہر دو سال بعد وسط مدتی انتخابات منعقد ہوتے ہیں، جو صدر کی چار سالہ مدت کے درمیان ہوتے ہیں۔ ان انتخابات میں ووٹرز فیصلہ کرتے ہیں کہ کانگریس کا کنٹرول کس سیاسی جماعت کے پاس ہوگا۔ صدارتی انتخابات کے برعکس ان کے ذریعے وائٹ ہاؤس میں صدر تبدیل نہیں ہوتا، تاہم صدر کے باقی دور حکومت میں ان کی حکمرانی اور سیاسی ایجنڈے پر عمل درآمد متاثر ہوسکتا ہے۔

امریکی کانگریس کیسے کام کرتی ہے؟

امریکی کانگریس دو ایوانوں، ایوان نمائندگان اور سینیٹ پر مشتمل ہے۔ دونوں ایوان قانون سازی میں کردار ادا کرتے ہیں، تاہم ان کے اختیارات اور انتخابی طریقہ کار مختلف ہیں۔

3 نومبر کو ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہورہے ہیں۔ ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کسی جماعت کو کم از کم 218 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ اس وقت ریپبلکن پارٹی کو معمولی اکثریت حاصل ہے اور ڈیموکریٹس کو ایوان کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کم از کم تین نشستوں کا خالص اضافہ درکار ہے۔

سینیٹ کے انتخابات مختلف انداز میں ہوتے ہیں۔ اس سال 100 میں سے صرف 35 نشستوں پر انتخابات ہورہے ہیں، جن میں دو خصوصی انتخابات بھی شامل ہیں۔ ریپبلکنز کو سینیٹ میں 53 نشستیں حاصل ہیں جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس 47 نشستیں ہیں، جن میں دو آزاد سینیٹرز بھی شامل ہیں جو ڈیموکریٹس کے ساتھ ووٹ دیتے ہیں۔ سینیٹ میں اکثریت کے لیے ڈیموکریٹس کو اپنی نشستوں میں چار کا خالص اضافہ کرکے 51 نشستیں حاصل کرنا ہوں گی۔

کانگریس کا کنٹرول کیوں اہم ہے؟

اگر ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں تو انہیں قانون سازی، کانگریسی تحقیقات اور ٹرمپ انتظامیہ کی نگرانی کے معاملات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا، چاہے سینیٹ میں ریپبلکنز کی اکثریت برقرار رہے۔

دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرنے کی صورت میں ڈیموکریٹس صدر کے سیاسی ایجنڈے کو روکنے یا اس میں تبدیلی لانے کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکیں گے۔ انہیں مجوزہ قانون سازی کو چیلنج کرنے، انتظامیہ سے جواب طلب کرنے اور ملکی و خارجہ پالیسی کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے زیادہ مواقع ملیں گے۔

نتائج مشرق وسطیٰ پر کیسے اثر انداز ہوسکتے ہیں؟

ایران جنگ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے سے پہلے کانگریس سے منظوری نہیں لی تھی۔ اس کے بعد ڈیموکریٹس نے متعدد بار ایسی قراردادوں کی حمایت کی جن میں مطالبہ کیا گیا کہ کانگریس کی اجازت کے بغیر جنگ جاری نہ رکھی جائے۔ ان میں سے ایک قرارداد کو چند ریپبلکن ارکان کی حمایت بھی حاصل ہوئی، تاہم وہ منظور نہ ہوسکی۔

اگر ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان یا سینیٹ میں اکثریت حاصل کرلیتے ہیں تو وہ دفاعی اخراجات سے متعلق اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ پر دباؤ ڈال سکتے ہیں کہ جنگ جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے منظوری حاصل کریں۔

ڈیموکریٹس امریکی انتظامیہ کی عسکری حکمت عملی پر نگرانی بھی بڑھا سکتے ہیں اور حکام کو جنگ سے متعلق منصوبوں پر عوامی سطح پر وضاحت دینے کے لیے کانگریس میں طلب کرسکتے ہیں۔

اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد

اسرائیل کی حمایت کا معاملہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر تیزی سے اختلافات کا باعث بن رہا ہے، خصوصاً غزہ جنگ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے، جس کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری تشدد اور اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے ریپبلکنز کے ساتھ قریبی تعلقات نے بھی ڈیموکریٹس کے اندر اختلافات کو بڑھایا ہے۔

اگر ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں تو وہ اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد محدود کرنے یا ختم کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ اسرائیل کو گزشتہ مالی سال 3.8 ارب ڈالر کی امریکی فوجی امداد ملی، جو کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ تھی۔

یہ معاملہ پہلے ہی ڈیموکریٹک پارٹی میں اختلافات سامنے لاچکا ہے۔ رواں موسم گرما میں ایوان نمائندگان کے تقریباً نصف ڈیموکریٹ ارکان نے اسرائیل کی امداد بند کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ دوسری جانب اس اقدام کی مخالفت کرنے والے بعض ارکان، جن میں ڈیموکریٹک رکن گریگوری میکس بھی شامل ہیں، بھاری بموں جیسے مخصوص ہتھیاروں کی فراہمی محدود کرنے کی حمایت کرچکے ہیں۔

تاہم کانگریس میں اکثریت کی تبدیلی سے واشنگٹن کی مشرق وسطیٰ سے متعلق پالیسی خود بخود تبدیل نہیں ہوگی۔ خارجہ امور میں صدر کے پاس اب بھی وسیع اختیارات موجود ہیں، جبکہ کانگریس مالی وسائل، نگرانی اور بعض پالیسیوں پر عمل درآمد کے حوالے سے اثر انداز ہوسکتی ہے۔

انتخابی نتائج کب سامنے آئیں گے؟

انتخابات کے ابتدائی نتائج منگل 3 نومبر کی رات سامنے آنا شروع ہوں گے۔ امریکی مشرقی وقت کے مطابق شام 6 بجے پولنگ اسٹیشن بند ہونا شروع ہوں گے، جو متحدہ عرب امارات کے وقت کے مطابق بدھ 4 نومبر کی صبح 3 بجے بنتا ہے۔

ایوان نمائندگان یا سینیٹ میں کس جماعت کو اکثریت حاصل ہوئی، اس کے حتمی اعلان کے لیے کوئی مقررہ وقت نہیں۔ متعدد حلقوں کے نتائج راتوں رات یا بدھ کے روز واضح ہوسکتے ہیں، تاہم سخت مقابلے والے حلقوں میں نتائج سامنے آنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

2024 کے انتخابات میں بھی ایوان نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے والی جماعت کا فیصلہ ہونے میں آٹھ دن لگے تھے۔

ووٹوں کی گنتی کا دورانیہ ریاستوں کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، خصوصاً ابتدائی اور ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی میں وقت لگ سکتا ہے۔ قریبی مقابلے میں دوبارہ گنتی کی نوبت بھی آسکتی ہے، جبکہ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایریزونا، نیواڈا اور کیلیفورنیا جیسی ریاستوں میں حتمی نتائج سامنے آنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button