
خلیج اردو
دبئی کے علاقے بزنس بے میں ایک کمرشل جائیداد کا کرایہ آٹھ ماہ تک ادا نہ کرنے والے کرایہ دار کو بے دخل کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ کرایہ دار نے کرایہ داری کا معاہدہ شروع ہونے کے بعد سے ایک مرتبہ بھی ادائیگی نہیں کی، جس کے باعث مجموعی طور پر 24 لاکھ 15 ہزار درہم کے واجبات جمع ہوگئے تھے۔
دبئی کے رینٹل ڈسپیوٹس سینٹر نے قرار دیا کہ قانونی نوٹس کے تحت مقررہ 30 روزہ مدت گزرنے کے بعد کرایہ ادا کرنے کی پیشکش بے دخلی روکنے کے لیے کافی نہیں۔ کرایہ دار نے قانونی مدت ختم ہونے کے بعد واجب الادا رقم ادا کرنے کی پیشکش اور رقم جمع کرانے کا سرٹیفکیٹ پیش کیا تھا، تاہم ابتدائی سماعت کرنے والی کمیٹی نے اسے قانونی طور پر مؤثر تسلیم نہیں کیا۔
کیس کی تفصیلات کے مطابق مالک مکان نے کرایہ ادا نہ ہونے پر قانونی کارروائی شروع کی اور کرایہ دار کو باقاعدہ نوٹس جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ 30 روز کے اندر واجب الادا کرایہ ادا کیا جائے یا جائیداد خالی کردی جائے۔ کرایہ دار مقررہ مدت میں رقم ادا کرنے میں ناکام رہا۔
کمیٹی نے اپنے فیصلے میں دبئی کے قانون نمبر 26 برائے 2007 کا حوالہ دیا، جس میں 2008 کے قانون نمبر 33 کے ذریعے ترامیم کی گئی تھیں۔ قانون کے تحت کرایہ دار کو قانونی نوٹس موصول ہونے کے 30 روز کے اندر کرایہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مالک مکان بے دخلی کی کارروائی کرسکتا ہے۔
فیصلے کے مطابق مقررہ مدت میں کرایہ ادا نہ کرنے پر مالک مکان کو بے دخلی کا حق حاصل ہوگیا تھا، جبکہ بعد میں ادائیگی کی کوشش اس قانونی حق کو ختم نہیں کرسکتی۔
کمیٹی نے کرایہ دار کو حکم دیا کہ وہ کمرشل جائیداد خالی کرکے تمام افراد اور سامان سمیت مالک مکان کے حوالے کرے۔ اس کے علاوہ کرایہ دار کو بے دخلی کی اصل تاریخ تک مقررہ سالانہ شرح کے مطابق مزید کرایہ، متعلقہ فیس اور قانونی اخراجات بھی ادا کرنے ہوں گے۔







