
خلیج اردو
ایران کے جزیرے قشم پر امریکا کے تازہ حملوں کی اطلاعات نے خلیجی ممالک کی سلامتی سے متعلق خدشات ایک بار پھر بڑھا دیے ہیں، تاہم خطے میں بڑے پیمانے پر لڑائی کی واپسی روکنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ تین نومبر بروز منگل سامنے آنے والی ان اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی دوران اشارہ دیا کہ تہران کے ساتھ معاہدے کا امکان اب بھی موجود ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی حکام نے کارروائی کو محدود اور دفاعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب بڑے پیمانے پر فوجی آپریشنز کی بحالی نہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے آبنائے ہرمز میں واقع جزیرے قشم پر دھماکوں کی اطلاعات دیں۔ خلیج تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ مذاکرات غیر یقینی ہونے کے باوجود خطہ ایک اور کشیدگی میں شامل ہونے سے کیسے بچ سکتا ہے؟
واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدے کے لیے علاقائی ثالثوں کے ذریعے کوششیں جاری ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق قطر اور پاکستان بالواسطہ مذاکرات میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایرانی مذاکرات کار قطری ثالثوں سے بات چیت کے لیے دوحہ پہنچے تھے اور یکم نومبر کو وہاں سے روانہ ہوگئے۔ مذاکرات سے واقف ایک عہدیدار کے مطابق ان کی روانگی کا مطلب بات چیت کا خاتمہ نہیں تھا۔
مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ بھی زیر بحث ہے، جہاں بحری آمدورفت پر پابندیوں کے باعث توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت متاثر ہوئی ہے۔ ایران نے اس آبی راستے کو دوبارہ کھولنے کی تجویز ایک وسیع تر معاہدے سے مشروط کی ہے، جس میں ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں ختم کرنے اور دیگر اقتصادی پابندیوں سے متعلق مطالبات شامل ہیں۔ تاہم اب تک کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کو کہا تھا کہ صدر ٹرمپ نے مزید حملوں کا فیصلہ نہیں کیا اور وہ سفارتی حل کو ترجیح دیں گے۔
خلیجی تعاون کونسل کے تمام ممالک کے معاشی اور سیاسی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، تاہم جغرافیائی محل وقوع اور دفاعی تعلقات کے باعث ہر ملک کو مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے۔ بحرین میں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا موجود ہے، اس لیے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی بھی محاذ آرائی کی صورت میں امریکی فوجی تنصیبات کی سلامتی اہم معاملہ بن جاتی ہے۔
کویت کے امریکا کے ساتھ قریبی دفاعی تعلقات ہیں اور خلیج کے شمالی حصے میں اس کا محل وقوع اور قریبی بحری راستوں کی سلامتی اہم چیلنجز ہیں۔ سعودی عرب کو توانائی کے بنیادی ڈھانچے، تیل کی برآمدات اور علاقائی سلامتی کے خدشات درپیش ہیں، خصوصاً یمن میں حوثی تحریک سے متعلق کشیدگی کے تناظر میں۔ متحدہ عرب امارات کے لیے تجارتی سرگرمیوں، فضائی سفر اور لاجسٹکس کے نظام کو مزید رکاوٹوں سے محفوظ رکھنا اہم ہے۔
یہ ممکنہ خطرات اور خدشات ہیں، ان کا مطلب یہ نہیں کہ تازہ حملوں کے بعد ان چاروں ممالک نے کوئی نئی ہنگامی تدابیر اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ قطر اور عمان کے لیے سفارت کاری اور بحری سلامتی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ قطر واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کر رہا ہے، جبکہ عمان بھی سیاسی حل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کے پیر کو دورہ چین کے دوران عمان اور چین نے تنازعات سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دیا اور واشنگٹن اور تہران پر زور دیا کہ وہ پُرامن راستہ اختیار کریں۔
آبنائے ہرمز اس بحران کا ایک مرکزی معاملہ ہے۔ یہ آبی راستہ توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے اور یہاں بحری آمدورفت میں رکاوٹوں نے تیل کی عالمی منڈیوں اور جہاز رانی کے نظام کو متاثر کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کے مطالبات تسلیم ہونے کی صورت میں مختصر وقت میں آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے، تاہم امریکا نے تہران کی مجوزہ شرائط قبول نہیں کیں۔
خلیجی معیشتوں کے لیے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی سے تیل اور دیگر اشیا کی برآمدات، درآمدات اور تجارتی جہاز رانی سے متعلق غیر یقینی صورت حال کم ہوسکتی ہے۔ تاہم معاملہ صرف تجارت تک محدود نہیں، کیونکہ اس آبی راستے کے قریب دوبارہ فوجی محاذ آرائی کی صورت میں بحری جہازوں، ساحلی تنصیبات اور علاقائی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
آنے والے دن جنگ میں مزید شدت روکنے کی سفارتی کوششوں کے لیے اہم ہوسکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ تہران اپنے سکیورٹی اور اقتصادی مطالبات پر قائم ہے۔ قشم جزیرے پر محدود حملوں کی اطلاعات ظاہر کرتی ہیں کہ ثالثی کی کوششوں کے باوجود فوجی سرگرمیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔
واشنگٹن اور تہران کے تعلقات سے آگے بڑھ کر اس تنازع کا نتیجہ پورے خلیجی خطے کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ سفارتی کامیابی سے علاقائی سلامتی اور تجارت پر دباؤ کم ہوسکتا ہے، جبکہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں پڑوسی ممالک کو مزید غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگرچہ خلیج تعاون کونسل کے چھوں ممالک کے چیلنجز مختلف ہیں، تاہم سب کا مشترکہ مفاد ایک اور بڑی جنگ روکنے اور دنیا کے اہم ترین توانائی اور تجارتی خطوں میں استحکام بحال کرنے میں ہے۔







