
خلیج اردو
گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد متحدہ عرب امارات واپس آنے والے رہائشی مہنگے فضائی کرایوں سے بچنے کے لیے سفری تاریخیں تبدیل کر رہے ہیں، مختلف ایئرپورٹس کا انتخاب کر رہے ہیں اور بعض خاندانوں نے واپسی ستمبر کے وسط تک مؤخر کر دی ہے۔
اگست کے آخری ہفتے اور ستمبر کے آغاز میں کئی UAE جانے والی پروازوں کے کرایوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر بھارت سے آنے والی پروازوں پر۔ اسی وجہ سے مسافر ہزاروں درہم اضافی خرچ کرنے کے بجائے اپنی سفری منصوبہ بندی تبدیل کر رہے ہیں۔
شارجہ کے رہائشی فضیل نے اپنے خاندان کے لیے کوچین سے UAE واپسی کی ٹکٹیں پہلے ستمبر کے پہلے ہفتے کے لیے دیکھیں تو چار افراد کے ٹکٹ تقریباً 7 ہزار درہم کے پڑ رہے تھے۔ انہوں نے خاندان کی واپسی 15 ستمبر تک مؤخر کردی، جس سے ٹکٹوں کی لاگت تقریباً 3 ہزار 800 درہم رہ گئی اور خاندان کو تقریباً 3 ہزار 200 درہم کی بچت ہوگئی۔
دوسری جانب دہلی سے تعلق رکھنے والے اے تیواری نے دبئی کے بجائے ابوظبی ایئرپورٹ کا انتخاب کیا۔ 3 ستمبر کو دہلی سے دبئی کا اوسط کرایہ تقریباً 1200 درہم فی مسافر تھا جبکہ ابوظبی کی ٹکٹ تقریباً 850 درہم میں دستیاب تھی۔ چار افراد کے خاندان کے لیے اس فیصلے سے تقریباً 1400 درہم کی بچت ہوئی۔
ٹریول ایجنٹس کے مطابق UAE آنے والی پروازوں میں طلب تقریباً 10 ستمبر تک زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ اس کے بعد مسافروں کی تعداد کم ہونے پر کرایوں میں کمی متوقع ہے۔
ٹریول ماہرین کا کہنا ہے کہ جو مسافر تاریخ کے معاملے میں لچک رکھتے ہیں وہ 10 ستمبر کے بعد سفر کرکے بہتر کرایے حاصل کرسکتے ہیں۔ خاندانوں کے لیے مختلف ایئرپورٹس اور سفری تاریخوں کا موازنہ کرنا بھی ہزاروں درہم کی بچت کا باعث بن سکتا ہے







