متحدہ عرب امارات

شارجہ کے حکمران کا خورفکان میں پہاڑ کی چوٹی ہموار کرکے رہائشی علاقہ بنانے کا منصوبہ

خلیج اردو
شارجہ کے حکمران شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی نے خورفکان شہر کی نئی انتظامی تقسیم کا منصوبہ مکمل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے جلد جاری کیا جائے گا۔

شیخ سلطان نے منگل 11 اگست کو ‘ڈائریکٹ لائن’ پروگرام میں ٹیلی فونک گفتگو کے دوران بتایا کہ خورفکان کے ایک بڑے پہاڑ الاوین کی چوٹی کو ہموار کرکے وہاں رہائشی علاقہ قائم کرنے کے امکان پر تحقیق جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ خورفکان چاروں طرف پہاڑوں سے گھرا ہوا شہر ہے اور شہر کی توسیع کے لیے دستیاب زمین محدود ہے۔ اسی وجہ سے پہاڑی علاقے کو استعمال کرنے کے مختلف امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

شیخ سلطان کے مطابق الاوین پہاڑ وکٹوریہ اسکول سے الغزیر تک پھیلا ہوا ہے اور اس میں الاشقر علاقہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ الاشقر کا نام سنہرے یا زرد رنگ سے متعلق نہیں بلکہ ایک مخصوص قسم کے پہاڑ کے لیے استعمال ہونے والی عربی اصطلاح ہے جس کی مٹی ہلکے بھورے رنگ کی ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس علاقے کو دوبارہ منظم کرنے کے بعد یہاں صرف دو رہائشی علاقے باقی رکھنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جبکہ مزید جگہ حاصل کرنے کے لیے پہاڑوں کی طرف توسیع کے امکان کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

شیخ سلطان نے کہا کہ چونکہ الاوین پہاڑ اس علاقے کا سب سے بڑا اور نمایاں پہاڑ ہے، اس لیے اس کی چوٹی کو ہموار کرکے وہاں رہائشی علاقہ بنانے کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے رہائش کی جگہ پیدا ہوسکتی ہے۔

شارجہ کے حکمران نے خورفکان کے مختلف علاقوں کے ناموں پر بھی بات کی اور کہا کہ وہ ایسے نام رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں جو اچھی اور مثبت چیزوں کی علامت ہوں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ السبیحیہ کا نام ایک قدیم مقام کی نسبت سے رکھا گیا، جبکہ ایک دوسرے علاقے کا نام ایسے مقام سے منسوب تھا جہاں سانپ پائے جاتے تھے۔ شیخ سلطان نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی رہائشی علاقے کا نام "سانپ” رکھا جانا مناسب ہوگا اور کیا وہاں کے رہائشی یہ نام اپنی اگلی نسلوں کو منتقل کرنا پسند کریں گے؟

انہوں نے کہا کہ ہر علاقے کو ایسا نام دیا جانا چاہیے جو اچھی چیز کی علامت ہو۔

شیخ سلطان نے بتایا کہ جس طرح کلبا شہر کی انتظامی تقسیم جاری کی گئی، اسی طرح خورفکان کی نئی انتظامی تقسیم بھی جلد جاری کردی جائے گی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button