
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی اسکولوں میں داخلے کے لیے عمر کی نئی حد کا اطلاق شروع ہو جائے گا، جس کے تحت 31 اگست کے بجائے 31 دسمبر کو عمر کے تعین کی آخری تاریخ قرار دیا گیا ہے۔
وزارتِ تعلیم کی جانب سے دسمبر 2025 میں اعلان کیے گئے اس فیصلے پر دبئی کے نجی اسکول رواں سال سے عمل درآمد شروع کر رہے ہیں، جس کے بعد متعدد تعلیمی اداروں نے اپنے داخلہ نظام، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور کلاس رومز کی گنجائش میں تبدیلیاں کی ہیں۔
نئے قواعد کے تحت ستمبر سے دسمبر کے درمیان پیدا ہونے والے بچوں کے لیے مختلف جماعتوں میں داخلے کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، جس کے باعث کئی والدین کو اپنے بچوں کے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے نئے فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔
اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ داخلے کے فیصلے صرف عمر کی بنیاد پر نہیں کیے جائیں گے بلکہ ہر بچے کی ذہنی، جذباتی اور سماجی صلاحیتوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
خصوصی طور پر یکم ستمبر سے 31 دسمبر 2022 کے درمیان پیدا ہونے والے بچوں کے لیے عبوری پالیسی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت انہیں ایف ایس ون یا ایف ایس ٹو میں داخلے کا موقع دیا جا سکتا ہے۔
تعلیمی اداروں کے مطابق ایسے بچوں کے لیے ترقیاتی جائزے لیے جا رہے ہیں، جن میں زبان، ابلاغ، سماجی رویے، خود انحصاری، جذباتی پختگی اور تعلیمی ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کا جائزہ شامل ہے۔
ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ والدین کو صرف تاریخِ پیدائش کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا ان کا بچہ کلاس روم کے ماحول میں سیکھنے اور دوسروں کے ساتھ گھلنے ملنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔
ماہر اطفال ڈاکٹر وشروت سنگھ کے مطابق اسکول کے لیے تیار ہونے کا مطلب صرف حروفِ تہجی یاد ہونا نہیں بلکہ بچے میں والدین سے کچھ وقت کے لیے الگ رہنے، اپنی ضروریات بیان کرنے، جذبات پر قابو پانے اور بنیادی ذاتی امور خود انجام دینے کی صلاحیت کا ہونا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ شدید علیحدگی کے خوف، زبان کے مسائل، بار بار غصے کے اظہار، بیت الخلا کے استعمال میں مشکلات، اجتماعی سرگرمیوں سے گریز اور بہت کم توجہ جیسی علامات بچے کے لیے مزید جائزے کی ضرورت کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔
اسکولوں کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں کے لیے تدریسی طریقہ کار کو انفرادی ضروریات کے مطابق ڈھالا جائے گا تاکہ ہر بچے کو اس کی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع مل سکے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے کی کامیابی کا انحصار صرف عمر پر نہیں بلکہ اس کی مجموعی ذہنی، جذباتی اور سماجی تیاری پر ہوتا ہے۔







