متحدہ عرب امارات

کیریئر میں آگے بڑھنے کی دوڑ خواتین کے لیے ذہنی دباؤ کا سبب بننے لگی، لنکڈ اِن پوسٹس بھی بے چینی بڑھانے لگیں

خلیج اردو
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ میدان میں آگے بڑھنے کی خواہش رکھنے والی بہت سی خواتین کیریئر سے متعلق "فومو” یعنی پیچھے رہ جانے کے خوف کا شکار ہو رہی ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا بالخصوص لنکڈ اِن پر دوسروں کی کامیابیوں کا مسلسل مشاہدہ ہے۔

متحدہ عرب امارات کے ماہرین کے مطابق مسئلہ بلند عزائم نہیں بلکہ اپنی پیشہ ورانہ ترقی کا دوسروں کی کامیابیوں سے موازنہ کرنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سی خواتین یہ محسوس کرتی ہیں کہ انہیں اب تک اعلیٰ عہدے، بین الاقوامی ذمہ داریاں یا ترقی حاصل کر لینی چاہیے تھی، جس کے باعث وہ خود کو مسلسل دباؤ میں رکھتی ہیں۔

جی سی سی مارکیٹس اور ایگزیکٹو ایجوکیشن کی ماہر لولے بنجاکو کراپینار کے مطابق خواتین کے لیے یہ احساس اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب کیریئر، خاندانی ذمہ داریوں اور معاشرتی توقعات کے درمیان توازن قائم کرنا پڑتا ہے۔

ماہرِ نفسیات ریحانہ میگھانی کے مطابق بلند عزائم رکھنے والے افراد اکثر ایک ہدف حاصل کرنے کے فوراً بعد نئے ہدف کے تعاقب میں لگ جاتے ہیں، جس سے اطمینان کا احساس پیدا نہیں ہو پاتا۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر لوگ اپنی زندگی کا صرف کامیاب اور مثبت پہلو پیش کرتے ہیں، جبکہ دیکھنے والے اپنی حقیقی زندگی کا ان سے موازنہ کرنے لگتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کو دوسروں کی ترقی دیکھنے کے بعد ہی اپنی ملازمت سے عدم اطمینان محسوس ہوتا ہے تو یہ کیریئر سے حقیقی ناراضی نہیں بلکہ موازنہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے چینی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کامیابی حاصل کرنے کی کوئی مخصوص عمر یا مقررہ مدت نہیں ہوتی کیونکہ ہر فرد کا پیشہ ورانہ سفر مختلف ہوتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ مسلسل کامیابی حاصل کرنے کی خواہش ذہنی اور جسمانی تھکن کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ خواتین کو پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ گھریلو امور، بچوں کی دیکھ بھال اور خاندان کی دیگر ذمہ داریوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر وقت آن لائن رہنا یا رات گئے تک ای میلز کا جواب دینا کامیابی کی علامت نہیں بلکہ یہ رویہ مستقبل میں ذہنی تھکن کا باعث بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ملازمت اور ذاتی زندگی کے درمیان واضح حدود قائم کرنا کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ طویل مدت تک بہتر کارکردگی برقرار رکھنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کامیابی کو صرف عہدے اور تنخواہ سے نہیں بلکہ سیکھنے، مثبت اثرات، بامعنی تعلقات اور ذاتی اطمینان سے بھی جانچا جانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button