متحدہ عرب امارات

ایڈنوک کے ٹینکرز پر مسلسل حملے متحدہ عرب امارات کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے، انور قرقاش کا دوٹوک مؤقف

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا ہے کہ ایڈنوک کے ٹینکرز کو مسلسل نشانہ بنانے کے باوجود متحدہ عرب امارات اپنی متوازن اور دانشمندانہ پالیسی پر قائم رہے گا۔

رپورٹس کے مطابق ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں متحدہ عرب امارات کی سرکاری توانائی کمپنی ایڈنوک کے ٹینکرز پر تیسری بار حملہ کیا گیا، جبکہ 28 فروری کو شروع ہونے والی علاقائی جنگ کے بعد اب تک ایڈنوک کے 18 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

ڈاکٹر انور قرقاش نے اپنے بیان میں کہا کہ متحدہ عرب امارات کی پالیسی دفاعی صلاحیت، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے اصولوں پر مبنی ہے اور حملوں کے باوجود یہ پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔

انہوں نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے حق کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم تجارتی گزرگاہ کو اقتصادی دباؤ یا بلیک میلنگ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحری قزاقی کے مترادف ہے۔

انور قرقاش کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات بین الاقوامی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے اپنے حق کا ہر صورت تحفظ کرے گا اور خلیجی ممالک کے مشترکہ مؤقف کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر حملے بند کرے، جنگی کارروائیوں کے خاتمے کو یقینی بنائے اور آبنائے ہرمز کو مکمل اور غیر مشروط طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھول دے تاکہ علاقائی سلامتی اور عالمی تجارت کا استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

واضح رہے کہ ایران نے 28 فروری سے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت برقرار رکھتے ہوئے خلیجی ممالک سے توانائی کی برآمدات لے جانے والے بحری جہازوں کی آمدورفت محدود کر رکھی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے، تاہم ایران نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ آبی گزرگاہ مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے اور ایرانی افواج کی نگرانی کے بغیر کسی تجارتی جہاز کو محفوظ گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button