متحدہ عرب امارات

روزانہ کا سفر بھی جلد کو نقصان پہنچا سکتا ہے، ماہرین نے یو اے ای کے رہائشیوں کو خبردار کر دیا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف دھوپ میں زیادہ وقت نہ گزارنا جلد کو سورج کی شعاعوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کافی نہیں، کیونکہ روزانہ دفتر آنے جانے کے دوران بھی جلد نقصان دہ شعاعوں کی زد میں آسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق گاڑی چلاتے ہوئے، پارکنگ تک پیدل جاتے ہوئے یا گھر اور دفتر میں کھڑکی کے قریب بیٹھنے سے بھی جلد سورج کی شعاعوں سے متاثر ہوسکتی ہے۔

جلد کے امراض کی ماہر ڈاکٹر امان جوت اروڑا کھوکھر کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ سورج کی بالائے بنفشی شعاعیں، خصوصاً یو وی اے، شیشے سے گزر کر بھی جلد تک پہنچ جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں جلد پر دھبے، جھریاں اور قبل از وقت بڑھاپے کے آثار ظاہر ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یو وی بی شعاعیں زیادہ تر شیشے سے نہیں گزرتیں، لیکن یو وی اے شعاعیں گاڑی اور عمارتوں کے شیشوں سے گزر کر جلد کو متاثر کرسکتی ہیں۔

ڈاکٹر امان جوت نے بتایا کہ چند منٹ کی روزانہ نمائش معمولی محسوس ہوسکتی ہے، لیکن یہی مختصر دورانیہ مہینوں اور برسوں میں جلد کو نمایاں نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ماہرین نے ایک 69 سالہ ٹرک ڈرائیور کی مثال بھی دی، جس کے چہرے کا وہ حصہ جو 28 برس تک گاڑی کی کھڑکی کے ذریعے سورج کی روشنی کے سامنے رہا، دوسرے حصے کے مقابلے میں زیادہ متاثر پایا گیا۔

ڈاکٹر خوشبو گوئل کے مطابق گھر یا دفتر میں روشن کھڑکی کے قریب 30 سے 60 منٹ تک بیٹھنا بھی جلد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین نے یو اے ای کے رہائشیوں کو روزانہ سن اسکرین استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے، چاہے وہ زیادہ تر وقت گھر یا دفتر کے اندر ہی کیوں نہ گزارتے ہوں۔

ان کے مطابق روزمرہ استعمال کے لیے کم از کم ایس پی ایف 30 والی سن اسکرین مناسب ہے، جبکہ براہ راست دھوپ یا بیرونی سرگرمیوں کے لیے ایس پی ایف 50 یا اس سے زیادہ والی سن اسکرین استعمال کی جانی چاہیے۔

ماہرین نے یہ غلط فہمی بھی دور کی کہ زیادہ ایس پی ایف کا مطلب دگنا تحفظ نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق ایس پی ایف 50 تقریباً 98 فیصد جبکہ ایس پی ایف 100 تقریباً 99 فیصد شعاعوں کو روک سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابر آلود یا بارش والے دنوں میں بھی سن اسکرین کا استعمال ضروری ہے، کیونکہ تقریباً 80 فیصد بالائے بنفشی شعاعیں بادلوں سے گزر سکتی ہیں۔

ماہرین نے سن اسکرین کے ساتھ ٹوپی، دھوپ کے چشمے اور حفاظتی لباس استعمال کرنے کی بھی سفارش کی ہے تاکہ جلد کو سورج کی مضر شعاعوں سے محفوظ رکھا جاسکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button