متحدہ عرب امارات

دبئی میں جائیدادوں کی قیمتوں میں کمی، خریداروں کا رخ بڑے گھروں اور مہنگی رہائشی کمیونٹیز کی جانب

خلیج اردو
دبئی میں گزشتہ چند ماہ کے دوران جائیدادوں کی قیمتوں میں آنے والی کمی کے بعد خریدار اب چھوٹے اپارٹمنٹس کے بجائے بڑے گھروں اور اعلیٰ رہائشی علاقوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔

رئیل اسٹیٹ ماہرین کے مطابق علاقائی کشیدگی کے باعث مارکیٹ میں آنے والی قیمتوں کی کمی نے متوسط طبقے کے خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔

رئیل اسٹیٹ بروکریج کمپنی ایکویٹی کی رپورٹ کے مطابق پہلے جو خریدار صرف ایک بیڈ روم کے اپارٹمنٹس خریدنے کی استطاعت رکھتے تھے، وہ اب معروف رہائشی علاقوں میں دو بیڈ روم کے گھروں کی خریداری کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تبدیلی نے خریداروں کو زیادہ بہتر رہائشی سہولیات اور طویل المدتی سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

ماہرین کے مطابق پہلے خریدار ارجان اور جمیرہ ولیج سرکل (جے وی سی) جیسے درمیانے درجے کے علاقوں کو ترجیح دیتے تھے، لیکن اب ان کی دلچسپی دبئی ہلز اسٹیٹ، دبئی کریک ہاربر، پام جمیرہ اور دبئی مرینا جیسے اعلیٰ رہائشی منصوبوں میں بڑھ رہی ہے۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امراہ یار کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران ایسے کئی خریداروں نے اعلیٰ رہائشی علاقوں میں گھر خریدے ہیں جو ایک سال پہلے ان کے لیے قابلِ رسائی نہیں تھے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران دبئی میں رہائشی جائیدادوں کے 79 ہزار 281 سودے ہوئے جن کی مجموعی مالیت 221.3 ارب درہم رہی۔

والیو اسٹریٹ کے مطابق جولائی 2026 میں جائیدادوں کے قیمتوں کے اشاریے میں 0.3 فیصد ماہانہ کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ سالانہ بنیادوں پر مجموعی طور پر 1.6 فیصد کمی دیکھی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ثانوی مارکیٹ میں لین دین کی تعداد میں تقریباً 40 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ نقد ادائیگی کے ذریعے خریدی جانے والی جائیدادوں میں 75 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خریدار اب قلیل مدتی منافع کے بجائے طویل المدتی سرمایہ کاری، بہتر طرزِ زندگی اور پائیدار منافع کو ترجیح دے رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button