متحدہ عرب امارات

گھر سے مثال قائم کریں، نوجوانوں میں انسولین ریزسٹنس کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے ڈاکٹروں کے مطابق نوجوانوں میں وزن بڑھنے، بلڈ شوگر زیادہ ہونے، فیٹی لیور اور ہارمونز سے متعلق مسائل کے ایسے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے جن کا تعلق انسولین ریزسٹنس سے ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بلوغت کے دوران انسولین کی حساسیت عارضی طور پر کم ہوسکتی ہے جبکہ زیادہ وزن خصوصاً پیٹ کے گرد چربی، جسمانی سرگرمی کی کمی اور خاندان میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کی تاریخ خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

اہم علامات

انسولین ریزسٹنس ابتدائی مرحلے میں اکثر واضح علامات ظاہر نہیں کرتی۔ گردن، بغلوں یا انگلیوں کے جوڑوں پر سیاہ اور مخملی دھبے اس کی ایک نمایاں علامت ہوسکتے ہیں۔ وزن میں غیر معمولی اضافہ، تھکن، وزن کم کرنے میں مشکل، میٹھا کھانے کی شدید خواہش اور لڑکیوں میں ماہواری کی بے قاعدگی بھی ممکنہ علامات میں شامل ہیں۔

بچاؤ کیسے ممکن ہے؟

ڈاکٹرز کے مطابق صرف نوجوان کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے خاندان کو صحت مند طرز زندگی اپنانا چاہیے۔ والدین کو گھر میں خود ورزش کرنے، اسکرین ٹائم کم کرنے، مناسب نیند لینے اور متوازن غذا استعمال کرنے کی مثال قائم کرنی چاہیے۔

غذا میں سبزیاں، پھل، مکمل اناج، گری دار میوے، زیتون کا تیل اور مناسب مقدار میں پروٹین شامل کرنا جبکہ میٹھے مشروبات اور پراسیسڈ اسنیکس کم کرنا مفید ہوسکتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں چھوٹی لیکن مستقل تبدیلیاں بھی میٹابولک صحت بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔

علاج نہ ہو تو کیا ہوسکتا ہے؟

ڈاکٹرز کے مطابق انسولین ریزسٹنس بڑھنے کی صورت میں پری ڈائبیٹیز اور بعد ازاں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول میں خرابی، فیٹی لیور اور مستقبل میں دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں طرز زندگی میں تبدیلیاں انسولین ریزسٹنس کو نمایاں طور پر بہتر اور بعض صورتوں میں ریورس بھی کرسکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button