
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے اماراتی طلبہ کے لیے اسکالرشپ کے نئے قوانین متعارف کرا دیے ہیں جن میں دنیا کی اعلیٰ جامعات، اہم تعلیمی شعبوں اور طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔
وزارت اعلیٰ تعلیم و سائنسی تحقیق نے 2026 کا وزارتی قرارداد نمبر 179 جاری کیا ہے، جس کے تحت بیرون ملک اسکالرشپس کے لیے اہلیت، انتخاب، طلبہ کی ذمہ داریوں اور اسکالرشپ کے انتظام سے متعلق نیا فریم ورک نافذ کیا گیا ہے۔
نئے قوانین کے تحت اسکالرشپ کے لیے منتخب جامعات کو عالمی درجہ بندی کے معیار پر پورا اترنا ہوگا۔ بعض شعبوں میں یونیورسٹی کا متعلقہ مضمون میں دنیا کی ٹاپ 50 جامعات میں شامل ہونا ضروری ہوگا۔
امریکا اور آسٹریلیا کی جامعات کے لیے متعلقہ شعبے اور مجموعی عالمی درجہ بندی میں ٹاپ 100 میں ہونا بھی ایک معیار ہوگا، جبکہ دیگر انگریزی بولنے والے ممالک کے لیے ٹاپ 200 اور غیر انگریزی ممالک کے لیے ٹاپ 300 کی شرط رکھی گئی ہے۔
وزارت کے مطابق صرف یونیورسٹی کی رینکنگ ہی فیصلہ کن نہیں ہوگی بلکہ طالب علم کی تعلیمی کارکردگی، یونیورسٹی کا معیار، منتخب شعبہ اور داخلے کی نوعیت کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
نئے نظام میں توانائی، ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، صحت، پانی و ماحولیات، تخلیقی صنعتوں، سائنس اور فنانس جیسے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے کیونکہ یہ شعبے متحدہ عرب امارات کی مستقبل کی ترقی کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔
اسکالرشپ کے انتخاب میں شہدا کے بچوں، سماجی معاونت پروگراموں سے مستفید ہونے والے طلبہ اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے طلبہ کو بھی ترجیحی گروپ میں شامل کیا گیا ہے۔
نئے قوانین کے تحت اسکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ کو تعلیمی معیار برقرار رکھنا ہوگا، متحدہ عرب امارات کی ساکھ کا خیال رکھنا ہوگا اور کسی دوسری اسکالرشپ یا مالی فائدے کی صورت میں وزارت کو آگاہ کرنا ہوگا۔
وزارت اعلیٰ تعلیم عالمی جامعات، تحقیقی اداروں اور لیبر مارکیٹ کے اداروں کے ساتھ شراکت داری بھی بڑھائے گی تاکہ طلبہ کو تربیت، تحقیق، جدت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
نئے فریم ورک کا مقصد اسکالرشپ نظام کو زیادہ شفاف، مؤثر اور متحدہ عرب امارات کی مستقبل کی مہارتوں اور معاشی ضروریات سے ہم آہنگ بنانا ہے۔







