
خلیج اردو
مصر کے معاون وزیر خارجہ برائے قونصلر امور حداد الجوہری نے متحدہ عرب امارات میں مصری شہریوں کی بڑے پیمانے پر ملازمتیں ختم ہونے اور ویزے منسوخ ہونے کی خبروں کو مسترد کردیا۔
مقامی میڈیا کو انٹرویو میں مصری عہدیدار نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہیں درست نہیں ہیں۔ ابوظبی میں مصری سفارتخانے اور دبئی میں قونصل جنرل کو مصری کارکنوں کی بڑے پیمانے پر برطرفی یا ویزوں کی منسوخی کے شواہد نہیں ملے۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں ویزے معمول کے مطابق جاری کیے جا رہے ہیں اور متعدد مصری کمپنیاں اپنے ملازمین اور یو اے ای میں سرمایہ کاری کرنے والے کارکنوں کے لیے ویزے حاصل کر رہی ہیں۔
حداد الجوہری نے تسلیم کیا کہ بعض افراد کے رہائشی اجازت نامے منسوخ ہوئے ہیں تاہم ان میں زیادہ تر نے یو اے ای کے رہائشی قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔ بعض افراد وزٹ ویزے پر ملازمت تلاش کرنے میں ناکام رہے جس کے باعث انہیں مصر واپس جانا پڑا۔
مصری عہدیدار نے واضح کیا کہ مصری شہریوں کو اجتماعی طور پر یو اے ای سے نکالے جانے کا تاثر درست نہیں۔ تحقیقات میں انفرادی طور پر غیر قانونی قیام یا ویزا مدت سے زیادہ قیام کے کیسز سامنے آئے ہیں اور یہ قوانین تمام غیر ملکی شہریوں پر یکساں لاگو ہوتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات اور مصر کے تعلقات مضبوط ہیں
حداد الجوہری نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان قونصلر حکام کی ملاقات اکتوبر میں ہوگی جس میں مصری شہریوں سے متعلق تمام کیسز کا جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اماراتی حکام مصری حکام کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور دونوں ممالک نے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو یو اے ای میں مقیم یا آنے والے مصری شہریوں سے متعلق مسائل کا جائزہ لے گی۔
دوسری جانب یو اے ای کے صدر کے مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے بھی مزدوروں کے رہائشی اجازت نامے منسوخ کیے جانے کی خبروں کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض پلیٹ فارمز ملک کے بارے میں غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔
یو اے ای حکام نے عوام پر زور دیا ہے کہ معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں۔ ملک میں افواہیں اور گمراہ کن معلومات پھیلانے پر 2 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔







