
خلیج اردو
دبئی میں روایتی اسکول بس کے بجائے بعض والدین اپنے بچوں کو اسکول پہنچانے اور واپس لانے کے لیے پرائیویٹ ڈرائیور اور لیموزین سروسز استعمال کرنے لگے ہیں۔
لیموزین کمپنیوں کے مطابق بچوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ ڈرائیورز کی بیک گراؤنڈ چیکنگ، جی پی ایس ٹریکنگ اور واٹس ایپ کے ذریعے پک اینڈ ڈراپ کی اطلاع جیسے اقدامات کے ذریعے والدین کو سفر کے دوران مسلسل اپ ڈیٹ رکھا جاتا ہے۔
فیئر وے ٹریول اینڈ ٹرانسپورٹ کے مطابق کمپنی کو والدین کی جانب سے ماہانہ دو سے تین درخواستیں موصول ہوتی ہیں جو اپنے بچوں کے لیے اسکول ٹرانسپورٹ سروس حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایک طرفہ سفر کی ابتدائی قیمت تقریباً 100 درہم ہے تاہم حتمی قیمت گاڑی اور فاصلے کے حساب سے مختلف ہوتی ہے۔
کمپنی کے مطابق والدین ضرورت پڑنے پر بچے کے ساتھ نینی یا خاندان کے کسی فرد کو بھی بھیج سکتے ہیں۔ سفر کے دوران والدین کو واٹس ایپ کے ذریعے معلومات فراہم کی جاتی ہیں جبکہ ڈرائیورز کی بھرتی سے پہلے پولیس کلیئرنس سمیت دیگر بیک گراؤنڈ چیکس کیے جاتے ہیں۔
دبئی کی ایک اور کمپنی ڈرائیو این رائیڈ لموزین کے مطابق نئے تعلیمی سال کے لیے شروع کی گئی اس کی مخصوص اسکول رن سروس میں پہلے ہی تقریباً 50 بچے ماہانہ مستقل پک اینڈ ڈراپ پلانز پر شامل ہیں۔ کمپنی کو توقع ہے کہ سال کے اختتام تک یہ تعداد 200 سے تجاوز کر جائے گی۔
کمپنی کے مطابق ہر خاندان کے لیے ایک ہی ڈرائیور مقرر کیا جاتا ہے تاکہ بچے روزانہ ایک مانوس چہرے کے ساتھ سفر کریں۔ بچے کو صرف والدین، نینی یا کسی مجاز بالغ فرد کے حوالے کیا جاتا ہے جبکہ ہر سفر کی جی پی ایس کے ذریعے حقیقی وقت میں نگرانی کی جاتی ہے۔
والدین کو پک اپ اور ڈراپ آف کے وقت واٹس ایپ پر اطلاع بھی دی جاتی ہے۔ کمپنی مستقبل میں ایک مخصوص پیرنٹ ایپ متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے ذریعے والدین گاڑی کی لائیو لوکیشن اور دیگر معلومات دیکھ سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق مختلف روٹس پر مشترکہ سفر کے لیے آٹھ نشستوں والی گاڑیاں بھی متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔







